خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 237 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 237

خطبات ناصر جلد سوم ۲۳۷ خطبہ جمعہ ۱۷ / جولائی ۱۹۷۰ء میں ہمارا کئی سو ڈا کٹر ہونا چاہیے ان میں سے ہمیں سرِ دست ۳۰ کی ضرورت ہے۔بعض تو جو میرے علم میں ہیں یعنی میری یاداشت میں ہیں ان کو تو میں خط بھی لکھوا رہا ہوں کہ آگے آؤ لیکن جو ڈاکٹر بالکل نیا ہو گا یعنی جس نے اس سال یا پچھلے سال ڈاکٹری کی ہے وہ فی الحال وہاں اتنا اچھا کام نہیں کرسکتا کیونکہ اس کا تجربہ زیادہ نہیں سوائے اس کے کہ کسی اچھے ماہر ڈاکٹر کے ساتھ جو پہلے وہاں کام کر رہے ہوں ان کے ساتھ اسے لگا دیں اور ان کے ساتھ مل کر دو چار سال کام کرے۔اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھ میں بھی شفا دے دے علم میں بھی زیادتی دے دے اس لئے فی الحال بہتر یہ ہے کہ ایسے ڈاکٹر زندگی وقف کریں جو یا تو ریٹائر ہو چکے ہوں اور ان کی صحت بھی اچھی ہو اور یا دو چار سال کے اندر ریٹائر ہونے والے ہوں اور وہ اپنے محکمہ سے چھٹی لے لیں یا فراغت حاصل کر لیں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ۳، ۴ سال کی چھٹی لیں اور پھر ایک سال یہاں آکر کام کریں اور پھر محکمہ سے پوری طرح فراغت پا کر وہاں چلے جائیں۔بہر حال جس تیزی کے ساتھ اس سکیم کے بعض شعبوں میں ہمیں یہاں کام کرنا چاہیے اسی تیزی سے ہمارے لئے اللہ تعالیٰ وہاں راہیں کھول رہا ہے شمالی نائیجیریا میں حکومت نے ہمارے دو سکولوں کے لئے ہمیں ۴۰،۴۰ ایکٹر مفت زمین دینے کا فیصلہ کر دیا ہے دوسرے دو سکول بھی وہاں کھلنے چاہئیں کیونکہ میں نے اُن سے چار کا وعدہ کیا ہے ان کے لئے بھی وہ عنقریب جب بھی ہم ان سے کہیں گے زمین دے دیں گے۔ہمارے آدمی وہاں ست تھے میں نے انہیں تیز کیا ہے ایک پیراماؤنٹ چیف نے ایک خاصا بڑا زمین کا قطعہ جس میں کچھ عمارتیں بنی ہوئی ہیں دیا ہے اور کہا ہے کہ اسے سنبھالو اور یہاں سکول کھولو۔اس طرح و اجو کہ غانا کا شمال مغربی علاقہ ہے۔وہاں ہماری بڑی جماعتیں ہیں وہاں ہمارا ایک عربی کا سکول بھی ہے۔وہاں کی جماعت نے زمین کا ایک وسیع قطعہ سکول اور میڈیکل سنٹر کھولنے کے لئے وقف کیا ہے۔پس اگر وہ لوگ تو قربانی پیش کر دیں ، اللہ تعالیٰ ایسے حالات پیدا کر دے کہ وہاں کی حکومتیں، غیر از جماعت امراء اور پیرا ماؤنٹ چیفس یا اس قسم کے دوسرے لوگ ہمیں زمینیں بھی دیں اور مکان بھی دیں گے اور آپ کہیں ہم آدمی نہیں دیتے تو اس سے بڑھ کر سبکی اور شرم کی کوئی اور بات