خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 229
خطبات ناصر جلد سوم ۲۲۹ خطبہ جمعہ ۱۷ / جولائی ۱۹۷۰ء حضرت نبی کریم کو اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ دیا کہ محمد اور احمد کے دو جلوے تیرے روحانی وجود سے دنیا دیکھے گی خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۷ جولائی ۱۹۷۰ ء سعید ہاؤس۔ایبٹ آباد تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے۔لَهُ الْحَمْدُ فِي الأولى وَالْآخِرَةِ (القصص : ١ ) قرآن کریم کی آیت کے اس ٹکڑے کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ جس حمد کی طرف یہ آیہ کریمہ اشارہ کر رہی ہے وہ سورہ فاتحہ میں بیان ہونے والی حمد ہے۔سورہ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ (الفاتحة : ۲ تا ۴۔کہ اللہ تعالیٰ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ اپنی ان چار بنیادی صفات کا مظاہرہ کرنے والا ہے اور جب ساری دنیا ان صفات کے جلوے مشاہدہ کرے گی تو وہ اس نتیجہ پر پہنچے گی کہ تمام صفات کی مستحق اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ جب حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صفت رحمان کا مظہر بنے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کا نام محمد رکھا اور جب آپ صفت رحیم کے مظہر بنے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کا نام احمد رکھا اور اللہ تعالیٰ نے آپ سے یہ وعدہ فرمایا کہ وہ دو زمانوں میں آپ کی شریعت کو تمام دنیا پر غالب کرے گا۔