خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 12
خطبات ناصر جلد سوم ۱۲ خطبہ جمعہ ۹/ جنوری ۱۹۷۰ء جن میں ان سات افراد خانہ کے مقابلہ میں چالیس، پچاس اور بعض دفعہ ساٹھ مہمان آجاتے ہیں۔ایک دفعہ جب میں افسر جلسہ سالا نہ تھا ایک رپورٹ میرے پاس آئی کہ ایک چھوٹا سا گھر ہے گھر والوں نے صرف ایک کمرہ مہمانوں کے لئے دیا ہے اور پچاس ساٹھ مہمانوں کا کھانا لینے آگئے ہیں حالانکہ اتنے مہمان تو اس کمرہ میں سما ہی نہیں سکتے جب رات کو معائنہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ جتنے مہمانوں کا کھانا انہوں نے لیا ہے اس سے زیادہ مہمان اس کمرہ میں سمائے ہوئے ہیں۔خدا تعالیٰ کے فرشتے ہی ان مہمانوں کے لئے جگہ بناتے ہیں اور ان کے لئے سیری کا سامان پیدا کرتے ہیں اور ان کے آرام کا خیال بھی رکھتے ہیں اور ان کے اعزاز کا ماحول بھی پیدا کرتے ہیں۔اہلِ ربوہ تو مفت میں سارا ثواب مہمان نوازی کا لے جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اور بھی زیادہ رحمتوں کا انہیں وارث بنائے اور اللہ تعالیٰ اور بھی زیادہ خدمت ضیف اور اکرام ضیف کی انہیں تو فیق عطا کرے۔ربوہ کا ماحول جس طرح جلسہ سالانہ کے ایام میں ظاہری اور باطنی طور پر پاکیزہ اور مطہر رہنا چاہیے اسی طرح سال کے دوسرے ایام میں بھی ہمارے ماحول میں کسی قسم کی گندگی اور نا پاکی داخل نہیں ہونی چاہیے۔اس میں شک نہیں کہ ربوہ کے مکینوں کی بڑی بھاری اکثریت اس کوشش میں ضرور لگی رہتی ہے کہ ان کا ماحول پاک رہے اور وہ یہ خواہش ضرور رکھتے ہیں کہ جس فضا میں وہ سانس لے رہے ہوں اور جس زمین پر ان کے قدم پڑ رہے ہوں وہ طہارت اور پاکیزگی رکھنے والی اور طہارت اور پاکیزگی اور برکت پہنچانے والی ہولیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ربوہ میں رہنے والوں میں سے بعض ان ذمہ داریوں کا خیال نہیں رکھتے جو اللہ تعالیٰ نے ان پر ڈالی ہیں اور جنہیں انہوں نے برضا و رغبت قبول کیا ہے کسی کے لئے یہ ضروری نہ تھا اور نہ اب ضروری ہے کہ وہ ربوہ میں ہی رہائش رکھے لیکن سارے ہی بظاہر اور ان میں سے بڑی بھاری اکثریت حقیقتاً بھی برضا و رغبت اور اس ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے اور اسے قبول کرنے کے لئے تیار ہو کر ربوہ میں رہائش پذیر ہیں۔اہلِ ربوہ نے جو ذمہ داری برضاور غبت اپنے اوپر لی ہے اگر ان میں سے ایک فیصد یا نصف فیصد یا چوتھائی فیصد ایسے گھرانے ہوں جنہیں اپنی ذمہ داریوں کا یا تو علم نہ ہو یا اپنی ذمہ داریاں نباہنے کی طرف انہیں توجہ نہ ہو تو اس کے نتیجہ میں انہیں یہ نہ سمجھ لینا چاہیے