خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 207 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 207

خطبات ناصر جلد سوم ۲۰۷ خطبہ جمعہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۷۰ء اللہ تعالیٰ نے انہیں بیوی بھی بڑی اچھی دی ہے، اس کے دل میں بھی اسلام کا درد اور احمدیت کا پیار ہے۔وہ سارا دن بچے اور بچیوں کو قرآن کریم پڑھانے میں مشغول رہتی ہیں۔ان کے علاقے میں جاکر اور یہ حالات دیکھ کر مجھے بہت ہی خوشی ہوئی۔میں نے عبدالوہاب سے کہا کہ تیار ہو جاؤ ، ہمارے حسین انتقام کے دن قریب آرہے ہیں اور میں نے وہاں اعلان کر دیا کہ میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ میں زندہ رہا تو میں یا میرے بعد جو بھی ہوگا وہ تمہیں گلاس کومشن کا انچارج بنا کر بھیجے گا۔وہ قو میں جو صدیوں تک تم پر ظلم کرتی رہی ہیں انہیں یہ پتہ لگنا چاہیے کہ تم لوگ اس قابل ہو کہ دین کے میدان میں پیار کے میدان میں اور محبت کے میدان میں اور ہمدردی اور غم خواری کے میدان میں ، خدمت کے جذبہ کے میدان میں اور مساوات کا پیغام دینے کے میدان میں تم ان کے استاد بنو گے انشاء اللہ۔ان سے میں نے کہہ دیا کہ تم چار سال کے بعد ربوہ آؤ گے اور یہاں اپنی انگریزی (ویسے تو اچھی خاصی جانتے ہیں ) اور زیادہ improve ( بہتر ) کرو گے اور پھر یہاں سے تمہیں گلاس کو بھیج دیں گے ان کے ملک کو بھی میں نے کہ دیا ہے کہ ہمارا تو یہ پروگرام ہے۔ہمارے ایک بڑے مخلص افریقن کماسی میں جو غانا کا ایک مشہور شہر ہے۔ہمارے ایک سکول کے ہیڈ ماسٹر ہیں وہاں کے ملک کی یہ پالیسی ہے اور یہ درست ہے کہ جو استاد یا پرنسپل انہیں افریقی ملے گا اس کی جگہ وہ غیر ملکی کونہیں رکھیں گے چنانچہ شروع میں ہمیں یہ خیال تھا کہ کہیں اس کا ہمارے سکولوں پر برا ثر نہ پڑے لیکن چونکہ وہاں کا معاشرہ کچھ اور رنگ رکھتا ہے عملاً یہ ثابت ہوا کہ کوئی بُرا اثر نہیں پڑا لیکن خدا کا کرنا یہ ہوا کہ ہمارے کماسی کے اس نہایت اعلیٰ اور مقبول اور بہت ہی کامیاب سکول ( جو ہمارے انٹر میڈیٹ کالج کے برابر ہے) کا جو افریقی پرنسپل مقرر کیا گیا وہ ایک احمدی تھا اس سے بھی میں نے کہا کہ تم بھی تیار ہو جاؤ ممکن ہے کسی دن میں تمہیں پاکستان میں بلا کر یہاں کے کسی سکول کا ہیڈ ماسٹر بنادوں کیونکہ جہاں تک احمدیت کا تعلق ہے کسی ایک ملک یا کسی ایک قوم کی اجارہ داری نہیں ہے۔اِنَّ اكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَنْقَكُمْ “ (الحجرات: ۱۴) میں گھر کے مخاطب پاکستانی نہیں یا صرف پہلے عرب نہیں تھے۔بلکہ ہر انسان اس کا مخاطب ہے جو بھی تقویٰ میں آگے نکل جائے گا خواہ وہ فرد ہو یا قوم اللہ تعالیٰ کو وہ دوسرے فرد یا قوم سے 66