خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 206 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 206

خطبات ناصر جلد سوم ۲۰۶ خطبہ جمعہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۷۰ء کوئی Heat generate (ہیٹ جزیٹ) نہیں ہونی چاہیے اُن کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ اور ان کے ساتھ پیار کا معاملہ کرو۔چنانچہ اس نے میری اس نصیحت کو بڑی بشاشت سے سنا اور مجھے کہنے لگا کہ مجھے اس وقت کا خود بھی خیال ہے میں ان سے یہی سلوک کروں گا۔وہ میرا بڑا ممنون تھا۔چونکہ ان کا معاشرہ بہت سے گندوں سے محفوظ ہے اس لئے آپ کو ہنستے کھیلتے چہرے نظر آئیں گے، بڑے ہشاش بشاش، کوئی شکایت نہیں، کوئی Discontentment (بے اطمینانی) نہیں، کوئی بددلی نہیں، کوئی اداسی نہیں، کوئی یہ خیال نہیں کہ انہیں حقیر سمجھا جاتا ہے آپس میں ایک دوسرے کو حقارت اور نفرت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے اور یہی پیغام میں لے کر گیا تھا۔اس واسطے ان کو اس نے اپیل کیا۔میں نے ایک دن انہیں یہ بھی کہا کہ میں آج تمہیں یہ بتا تا ہوں کہ تمہاری عزت اور احترام کا دن طلوع ہو چکا ہے اب دنیا تمہیں نفرت اور حقارت کی نگاہ سے نہیں دیکھے گی۔میرے ذہن میں تو یہ تھا کہ ان کی عزت اور احترام کو قائم کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث کیا۔اس لحاظ سے ہم اُن کے محافظ ہیں اُن کی عزت واحترام کے ، اور ہم محافظ ہیں ان کی جانوں اور مالوں کے، اور ہم محافظ ہیں شیطانی یلغاروں سے انہیں بچانے کے یعنی شیطان سے بچانے کا جو کام ہے وہ ہمارے سپر د ہے اور جو ان کی ضرورتیں ہیں وہ حتی الوسع ہم نے پوری کرنی ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے میں سمجھتا ہوں اس وقت کے حالات کے مطابق اللہ تعالیٰ کے علم سے یہ اعلان کیا تھا کہ افریقہ کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لئے محفوظ رکھا ہوا ہے اور یہ اب نظر آ رہا ہے کہ اگر ہم اپنی ذمہ داریوں کو نہا ہیں تو وہ لوگ بہت جلد اسلام کو ، احمدیت کو قبول کر لیں گے اور پھر اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے گا Sweet revenge ( سویٹ ریو پنج ) کی۔میں آپ کو کہتا تھا ہم نے ایک حسین انتقام ظالموں سے لینا ہے۔وہاں ہمارے عبدالوہاب ہیں جامعہ سے پڑھ کر گئے ہیں بڑے مخلص اور بڑے مستعد اور ہمت والے مبلغ ہیں۔وہ نہایت اچھا کام کر رہے ہیں