خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 205 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 205

خطبات ناصر جلد سوم ۲۰۵ خطبہ جمعہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۷۰ء میرا اندازہ یہ ہے کہ میں نے لیگوس کے باشندوں سے کم از کم پچاس ہزار مسکراہٹیں وصول کیں اور کسی جگہ میں نے مایوسی افسردگی اور بے زاری یا Discontentment (بے اطمینانی ) نہیں پائی۔وہ سب بڑے خوش اور ہشاش بشاش دکھائی دیتے تھے حالانکہ وہ ابھی سول وارجیت کر ہٹے تھے اس کے سکارز کہیں تو نظر آنے چاہیے تھے مگر کہیں بھی نظر نہیں آئے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ جب امیر اور غریب ایسے ہوں کہ ان کے رہن سہن میں زیادہ فرق نہ ہوا ایک دوسرے سے نفرت کا اظہار نہ ہو تکبر اور غرور نہ ہو تو وہ قوم خوشی اور بشاشت کی زندگی گزار رہی ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ انہیں اس چیز پر بھی استقامت بخشے اور باہر کے غیر ملکی گندے اثرات ان کے معاشرہ کو گندا کرنے میں کامیاب نہ ہوں جیسا کہ نائیجیریا کو تباہ کرنے کے لئے کوششیں کی گئی تھیں مگر اللہ تعالیٰ نے اس میں مفسد دنیا کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔جب میں یعقو بوگوون سے ملا ہوں تو اللہ تعالیٰ نے اس کے دل پر کچھ ایسا تصرف کیا تھا کہ وہ میرے ساتھ نصف گھنٹے تک اس طرح بیٹھا رہا کہ جس طرح اس کے گھر کا ایک فرد ہو وہ بڑی بے تکلفی سے باتیں کرتا رہا امریکن اور یورپین اقوام جو وہاں فساد پیدا کرنا چاہتی تھیں وہ ان پر جو تنقید کر رہا تھاوہ تو کرہی رہا تھا مجھے اس نے یہ بھی کہا کہ غیر ملکی عیسائی مشنز (خود وہ عیسائی ہے ) نے پورا زور لگایا کہ ہمارے ملک کو تباہ کر دیں لیکن اللہ تعالیٰ نے فضل کیا، ہمارا ملک تباہ ہونے سے بچ گیا میں نے اس سے کہا کہ تمہاری قدر میرے دل میں اس لئے بھی ہے (ویسے میں نے اس کے متعلق اور بھی بہت سی معلومات حاصل کی تھیں وہ بڑے ہی اچھے دل کا مالک ہے) کہ میں پورے غور سے عوام کو سڑکوں اور دکانوں کے سامنے دیکھتا رہا ہوں مگر میں نے کسی جگہ بھی یہ محسوس نہیں کیا کہ تمہاری خانہ جنگی کا قوم پر کوئی اثر ہو۔ویسے تو وہ ہر ایک کا خیال رکھتا ہے اس کی حالت یہ تھی کہ میں نے اسے یہ کہا کہ دیکھو! تم نے سول وار جیتی ہے اور یورپین اقوام کی مخالفت اور مداخلت کے باوجود جیتی ہے یہ تمہارا بڑا کارنامہ ہے تمہارے کندھوں پر بڑا بوجھ آ پڑا تھا لیکن اس سے بھی زیادہ اہم اور ضروری اور مشکل کام اب تمہیں کرنا ہے اور وہ یہ ہے کہ تم نے بیا فرا کو ویسے تو جنگ کے ذریعہ جیت لیا ہے لیکن ان کے دلوں کو جیتنا ابھی باقی ہے اس لئے