خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 204 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 204

خطبات ناصر جلد سوم ۲۰۴ خطبہ جمعہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۷۰ء واپس لیگوس اپنے ہوٹل میں پہنچے تو وہ مجھے نظر نہ آئے۔میں نے سمجھا شاید انہوں نے جلد ا پنی ڈیوٹی پر پہنچنا ہو اور وہ راستے سے ہی اپنی بیرک میں چلے گئے ہوں۔میں نے دوستوں سے پوچھا کہ ہمارے میجر صاحب ہمارے ساتھ تھے کیا وہ راستے ہی سے چلے گئے ہیں کیا بات ہے؟ وہ کہنے لگے کہ یہ پانچ قدم پر آپ کے سامنے کھڑے ہیں ہوا یہ تھا کہ موٹر ہی میں انہوں نے اپنی یو نیفارم اُتار کر اپنا جبہ پہن لیا تھا اور اس سے ان کی شکل بھی بدل گئی تھی ممکن ہے کہ اس طرح ایک غیر ملکی کے لئے انہیں پہچاننا آسان نہ ہو لیکن میرا تو خیال ہے کہ بحیثیت مجموعی ان کی شکلیں بھی بدل جاتی ہیں کیونکہ انسان کی شکل صرف اس کے چہرے کے فیچر ز یعنی نقوش ہی نہیں ہوتے بلکہ اس کا لباس ہے اور اس کی طرز ہے ان ساری چیزوں کے ملنے سے دماغ میں کسی شخص کی شکل کا ایک تصور قائم ہوتا ہے۔بہر حال امیر اور غریب میں جو بعد یہاں پایا جاتا ہے، اور جو تفریق یہاں پائی جاتی ہے وہ ان ملکوں میں نہیں پائی جاتی۔میں نے پہلے بھی ذکر کیا ہے کہ ہماری جس احمدی بہن نے اکیلے پندرہ ہزار پاؤنڈ سے زیادہ خرچ کر کے اجے بو اوڈے میں مسجد تعمیر کروائی ہے جس کا میں نے افتتاح کیا تھاوہ ہماری بہت بڑی جامع مسجد ہے۔میں نے وہاں یہ دیکھا کہ ان کے لئے اور عام مزدور یا جو ان کی وہاں نوکرانیاں تھیں۔ان کے لئے جو کھانا پک رہا تھا وہ مختلف نہیں تھا بلکہ ایک ہی کھانا تھا جس میں وہ بھی شامل ہوئی ہوں گی۔انہوں نے میرے سامنے تو نہیں کھایا البتہ میرا اندازہ تھا کہ کوئی الگ کھانا نہیں پک رہا چنانچہ میں نے اس کے متعلق دریافت کیا تو میرا خیال درست تھا معلوم ہوا کہ ایک ساتھ اکٹھے کھانے پر بیٹھ جاتے ہیں اور ان کا آپس میں کوئی فرق نہیں ہوتا اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جو بعض دفعہ Discontentment ( بے اطمینانی ) اور بد دلی ہمیں یہاں نظر آتی ہے وہاں یہ نظر نہیں آتی۔بڑا عجیب نظارہ ہے میں نے پہلے بھی بتایا ہے کہ ایک دن بہت مصروف پروگرام تھا۔ہم نے ایک جگہ سے دوسری جگہ موٹروں پر جانا تھا میں نے دوستوں سے کہا کہ ایک تو پیار ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے دوسرے مسکراہٹ کا جواب ہمیشہ مسکراہٹ سے ملتا ہے اور میں آج یہ کرتارہاہوں۔