خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 193
خطبات ناصر جلد سوم ۱۹۳ خطبہ جمعہ ۳/ جولائی ۱۹۷۰ء غالباً نہیں ہوتا۔اپنی ٹوپی پر پگڑی باندھتے ہیں لیکن ہمارے ملک کی طرح طرہ نکلا ہوا اور بالکل یہی شکل ہوتی ہے۔وہ بڑے اچھے اور سادہ لوگ تھے۔ہمارے جو دوست احمدی ہوتے ہیں یہ صحیح ہے کہ شروع میں بعض میں کمزوری ہوتی ہوگی کیونکہ ولی بن کر تو اس نے احمدی نہیں ہونا بلکہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے احمدی ہو کر ولی بنے گا۔اس کے لئے لمبے عرصہ تک تربیت کرنے کی ضرورت ہے بہر حال وہ لوگ بڑے مخلص احمدی ہیں۔ہمارے ایک نوجوان نا تجربہ کا مبلغ نے ہمارے نائیجیریا کے پریذیڈنٹ جن کا نام بکری ہے ان کے ساتھ موٹر میں بیٹھے ہوئے کوئی بد تمیزی کر دی۔بکری صاحب کا ایک بٹیا وہاں کی ہائیکورٹ کا جج بھی ہے اور مخلص احمدی ( نائیجیریا کے دو مسلمان حج ہیں اور دونوں احمدی ہیں۔ایک ہمارا احمدی ہے اور ایک باغیوں میں سے احمدی ہے بہر حال وہ بھی اپنے آپ کو احمدی ہی کہتے ہیں ) بکری صاحب نے جو اس مبلغ کو جواب دیا اس سے پتہ لگتا ہے کہ وہ کس قسم کے احمدی ہیں۔وہ اس سے کہنے لگے۔دیکھو! تم نے بدتمیزی کی ہے۔میں ایک پرانا احمدی ہوں اور احمدیت میرے رگ وریشہ میں رچی ہوئی ہے۔مجھ پر تمہاری اس بات کا کوئی اثر نہیں لیکن میں تمہیں یہ بتا دیتا ہوں اگر تم نے نوجوانوں کے سامنے ایسی بات کی تو ان کو احمدیت سے دور لے جانے کے تم ذمہ دار ہو گے۔وہ لوگ احمدیت کے عاشق اور بڑی قربانیاں کرنے والے ہیں ان کا جو کیریکٹر ہے اور ان کی جو عادتیں ہیں وہ اتنی اچھی اور خوبصورت ہیں کہ مجھے بعض دفعہ فکر پیدا ہوتی ہے کہ وہ کہیں ہم سے آگے نہ نکل جائیں۔اللہ تعالیٰ کا ہمارے ساتھ کوئی رشتہ تو نہیں کہ جو مرضی ہم کریں اور وہ ہمارے اوپر مہربان رہے اور دوسرے اس کی راہ میں زیادہ قربانیاں دینے والے، اس کے زیادہ عاشق اور اس سے زیادہ محبت کرنے والے ہوں اور وہ انہیں بھلا دے یہ تو نہیں ہوسکتا۔وہاں جو نسل اس وقت پرورش پارہی ہے وہ بڑی سنجیدہ ہے حالانکہ تعلیمی لحاظ سے وہ بڑے پیچھے ہیں لیکن اس کے سوا کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ قوم سعید فطرت لے کر پیدا ہو رہی ہے ( دنیوی لحاظ سے بھی ) مثلاً کوئی بچہ سڑک پر نہیں آئے گا۔وہاں ڈرائیور کو کوئی خدشہ نہیں ہوتا کہ وہ کسی انسان کو Knock down کر دے گا اور اسے مصیبت پڑ جائے گی اور اسی واسطے وہ بالعموم ستر اشی میل کی رفتار سے کار چلاتے ہیں چنانچہ ہم نے بو سے سیرالیون تک