خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 187
خطبات ناصر جلد سوم ۱۸۷ خطبہ جمعہ ۳/ جولائی ۱۹۷۰ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے میں رشیا میں جماعت کے افراد کو ریت کے ذروں کی طرح دیکھتا ہوں۔یہ آپ کا کشف ہے لیکن اس انتہا کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کے متعلق میں اس وقت بات کر رہا ہوں۔اسی طرح چین ہے وہاں سے بھی مذہب کو نکال دیا گیا ہے اور اس کی جگہ دہریت اور الحاد آ گیا ہے۔(یورپ کے بعض ممالک میں بھی یہی حالات ہیں ) مگر یہ تو وہ علاقے ہیں جہاں حکومت اور عوام نے اعلان کر دیا کہ مذہب سے ان کا کوئی تعلق واسطہ نہیں۔علاوہ ازیں دنیا کے بہت بڑے علاقے ایسے ہیں جن پر عیسائیت کا لیبل لگا ہوا ہے۔مثلاً عام گفتگو میں آپ کہیں گے کہ سارا یورپ عیسائی ہے عام گفتگو میں آپ کہیں گے کہ انگلستان ایک عیسائی ملک ہے عام گفتگو میں آپ کہیں گے کہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ عیسائی ممالک ہیں۔عام گفتگو میں آپ کہیں گے کہ کینیڈا اور یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ عیسائی ممالک ہیں عام گفتگو میں آپ کہیں گے کہ جنوبی امریکہ (جس میں بہت سے ممالک ہیں ) عیسائی ملک ہے اسی طرح افریقہ کے بعض حصوں کے متعلق آپ کہیں گے کہ یہ عیسائی ممالک ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ عیسائی ممالک نہیں ہیں البتہ کسی وقت یہ عیسائی ممالک ہوا کرتے تھے۔اب مثلاً یورپ ہے یورپ میں اللہ تعالیٰ کے فرشتوں نے تثلیث کو ختم کر دیا ہے یعنی گر جا کے ساتھ انہیں کوئی دلچسپی نہیں رہی البتہ ان قوموں پر عیسائیت کا لیبل لگا ہوا ہے۔آپ نے کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھا ہوگا آپ اپنے تصور میں بھی نہیں لا سکتے کہ کسی مسجد کے سامنے For Sale ( فارسیل) کا بورڈ لگا ہوا ہو یعنی یہ مسجد قابل فروخت ہے۔لیکن خود میری ان آنکھوں نے لندن کے بعض گرجوں کے سامنے For Sale ( فارسیل ) کا بورڈ لگا ہوا دیکھا ہے دوسری مصروفیات کی وجہ سے مجھے اکثر باہر نکلنے کا کم ہی موقعہ ملتا تھا لیکن جب کبھی میں موٹر میں باہر نکلتا اور کہیں گر جا نظر آتا خصوصاً اتوار کے روز تو میں یہ دیکھنے کی کوشش کرتا کہ مجھے اندر جانے والے یا باہر نکلنے والے نظر آجائیں اور میں یہ معلوم کرسکوں کہ وہ کس عمر یا کس ٹائپ کے لوگ ہیں۔جب میں ۶۷ء میں وہاں گیا تھا تو اس وقت ایک موقعہ پر ہماری کارا یک گرجے کے سامنے سے ایسے وقت گزری جب کہ پرستش کرنے کے بعد عیسائی گر جا سے باہر نکل رہے تھے چنانچہ