خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 186 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 186

خطبات ناصر جلد سوم ۱۸۶ خطبہ جمعہ ۳/ جولائی ۱۹۷۰ء وہیں رہے۔نہایت شریف اور ذہین آدمی ہیں میڈیسن کے ڈاکٹر ہیں لیکن اٹامک ریسرچ میں بھی انہیں مہارت ہے لیکن اس کے تشخیص والے حصے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔پہلے میرا خیال تھا کہ چونکہ اٹامک انرجی کے ذریعہ علاج ہونے لگ گیا ہے شاید وہ اس میں دلچسپی لیتے ہوں گے اس لئے دس پندرہ منٹ میں نے ان سے گفتگو کی اور بتایا کہ یہ تو ایک غیر فطری علاج ہے جس کی طرف اب دنیا جارہی ہے چنانچہ اس کے متعلق جو دلائل اس وقت میرے ذہن میں آئے وہ میں نے انہیں بتائے وہ چپ کر کے خاموشی سے میری باتیں سنتے رہے پھر جب میں خاموش ہوا تو وہ کہنے لگے مجھے اس کے علاج والے حصہ سے کوئی دلچسپی نہیں ہے صرف تشخیص والے حصہ سے مجھے دلچسپی ہے۔چند سال ہوئے وہ احمدی ہوئے تھے پھر وہ واپس اپنے ملک یوگوسلاویہ گئے وہاں انہوں نے تبلیغ شروع کر دی اور اب وہاں ان کے ذریعہ ایک جماعت قائم ہوگئی ہے۔اسی طرح پولینڈ میں بھی چند آدمی احمدی ہو چکے ہیں۔چیکو سلا و یکیہ ہماری جماعت کے ساتھ بڑی دلچسپی لے رہا ہے میں بڑا حیران ہوا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے نام دنیا سے مٹانا چاہتے تھے مگر اکرہ ( گھانا) میں مسجد کے سنگ بنیاد کے موقعہ پر اور سفراء جو مسلمان تھے وہ تو آئے ہی تھے لیکن چیکوسلا و یکیہ کا سفیر بھی وہاں موجود تھا وہ ہمارے کاموں میں بڑی دلچسپی لے رہا تھا۔اکرہ میں ہمارے قیام کے دوران میں جو بھی Function ( فنکشن ) ہوئے اس میں چیکوسلا و یکمین سفیر شامل ہوتار ہا۔ایک ایسی عمارت میں دلچسپی لینا جس کے متعلق اسلام کہتا ہے کہ یہ انسان کی ملکیت ہی نہیں ” آنَ الْمَسجِدَ للهِ ( الجن : ١٩) یہ اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے۔ایک ایسی عمارت میں دلچسپی لینا جس میں پانچ وقت اللہ تعالیٰ کا نام بلند ہوتا اور اس کی عظمت و کبریائی کا اقرار کیا جاتا ہے اس کے سنگ بنیاد کی تقریب میں ایک ایسے ملک کے سفیر کا شامل ہونا جو دنیا سے اللہ تعالیٰ کا نام مٹانا چاہتے تھے بہت معنی رکھتا ہے۔میں اس کی تفصیل میں اس وقت نہیں جاسکتا۔بہر حال دنیا کا ایک بڑا علاقہ ایسا ہے جہاں دہریت اور الحاد کی حکومت ہے اگر چہ یہ صیح ہے کہ اللہ تعالی نے اس " Iron Curtain" ( آئرن کرشن ) میں ہمارے لیے شگاف پیدا کر دیا ہے اور ہم ان علاقوں میں داخل ہو چکے ہیں مگر یہ ابھی ابتداء ہے اس کی انتہاء یہ ہے کہ