خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 167
خطبات ناصر جلد سوم ۱۶۷ خطبہ جمعہ ۱۹ / جون ۱۹۷۰ء ہمارا جو مبلغ حقیقی معنی میں محبت اور ہمدردی اور غمخواری اور مساوات اور جذ بہ خدمت لے کر وہاں نہیں جاتا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ محبت بھرا پیغام ان کو نہیں پہنچا تا وہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔آپ کی تو کیفیت تھی لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ اَلا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء : ۴) یہ جذبه اگر اس کے دل میں نہیں ہے تو وہ نا کام مبلغ ہے اس کا کوئی اثر نہیں ہے لیکن اگر یہ ان سے محبت نہ کرے میں تو سات سات آٹھ آٹھ دن مختلف ملکوں میں رہا ہوں مگر جتنے بچوں سے میں نے پیار کئے ہیں اتنے ہمارے سارے مبلغوں نے تین سال میں بھی نہیں کئے ہو نگے ان کے بچوں سے پیار، پھر میں ان کے بڑوں کا بھی بہت خیال رکھتا تھا۔جب ہم بو پہنچے۔ایک سوستر میل سفر تھا گرمی ، جبس ، کھانا بھی وقت سے بے وقت اور میراجسم کوفت کی وجہ سے کام کے قابل نہیں تھا میں اپنے کمرہ میں چلا گیا جسم انکار کر رہا تھا کام کرنے سے وہاں بے وقت پہنچے اس وقت مجھے اطلاع ملی کہ دو ہزار سے زیادہ احمدی یہاں پہنچ گیا ہے لاج میں اور وہ کہتے ہیں ہمیں معلوم ہے کہ حضرت صاحب تھکے ہوئے ہیں لیکن ہمیں صرف اپنی شکل دکھا دیں اور ہم سلام کریں گے اور چلے جائیں گے میں نے سوچا اگر وہ میری شکل دیکھنے کے بھو کے ہیں تو مجھے بہر حال تکلیف اٹھانی چاہیے میں نے انہیں کہا کہ میں تمہیں شکل ہی نہیں دکھاؤں گا میں تم سے مصافحے بھی کروں گا پھر میں نے ان سے مصافحے کئے ان کو گلے لگا یا دو گھنٹے کے قریب میں نے ان سے مصافحے کئے۔میرا حال یہ تھا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا مصافحوں کے دوران کہ مجھے یقین تھا کہ میں بیہوش ہو کر گر جاؤں گا لیکن یہ ان کا حق تھا جسے میں نے بہر حال ادا کرنا تھا۔ایک ڈاکٹر صاحب جو ڈیوٹی پر تھے بطور ڈاکٹر کے تو ان کی ضرورت نہیں پڑی لیکن وہ پانی وغیرہ کا خیال رکھتے تھے۔ان کو میں نے کہا کہ میری یہ حالت ہے دس دس منٹ کے بعد مجھے پانی دیتے چلے جاؤ چنانچہ وہ دو دو چار چار گھونٹ پانی کے مجھے پکڑاتے تھے تو میں پی لیتا تھا اور مجھے سہارا مل جاتا تھا اور سارا وقت میں نے ایسا کیا۔جتنے پیار میں نے ان کے بچوں سے ایک ایک ملک میں کئے اور جس قدر محبت اور شفقت کا سلوک ان کے بڑوں سے کیا وہ بے ثمر نہیں رہا اکرہ سے کماسی ۱۷۰ میل ہے اور کماسی سے ٹیچی من ۷۰ میل کے قریب۔وہاں سے کئی سو میل