خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 164
خطبات ناصر جلد سوم ۱۶۴ خطبہ جمعہ ۱۹ / جون ۱۹۷۰ء جماعت کو بتاؤں گا یہاں ان کو مقامی زبان کے کئی سو فقرے ہم یاد کروا دیں گے اور وہ وہاں جا کر دو چار مہینے میں بڑی جلدی روانی کے ساتھ بولنے لگ جائیں گی پس بعض مقامات پر بعض حالات میں ہمیں مبلغوں کی بیویاں بھی بھیجنی پڑیں گی لیکن جماعتی مفاد جہاں ہوگا وہاں انہیں بھیجیں گے جہاں جماعتی مفاد نہیں ہو گا وہاں ہماری احمدی بہن کو اور ایک مبشر کی بیوی کو اور اس کے بچوں کو یہ قربانی دینی پڑے گی کہ تین سال تک اس سے جدا ر ہیں۔اب تو میں بڑی سختی کے ساتھ تین سالہ پابندی کروا رہا ہوں پھر یہاں جو آتے ہیں ضروری نہیں کہ ہم تین سال تک ان کو یہاں رکھیں چھ مہینے یا سال یا تین سال ہم یہاں رکھیں گے یا ممکن ہے وہ دوبارہ جائیں ہی نہ کیونکہ وہ تو Pool (پول) کے ہوں گے پول میں سے اگر ساٹھ مبلغ تحریک کے ہیں تو تحریک پول میں سے چنیدہ اور سکریننگ کے بعد، تربیت کرنے کے بعد، ریفریشر کورس کے بعد ان کو باہر بھیجے گی اور جو باقی ہیں ان کی بھی یہاں سکریننگ کے بعد نظارت اصلاح وارشاد کو دیں گے اور باقیوں میں سے ممکن ہے پانچ دس ایسے ہوں کہ ہم ان کو کہیں تم ربوہ میں رہو اور ریفریشر کورس کرو یا تو اپنی تربیت کرلو کوشش اور دعا کے ساتھ اور یا پھر ہم تمہیں فارغ کر دیں گے غرض ہم نے خانہ پُری نہیں کرنی کیا خانہ پری سے اللہ تعالیٰ ہم سے خوش ہو گا ؟ اللہ تعالیٰ ہم سے یہ چاہتا ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ مخلصین اس کی راہ میں قربان کریں اللہ تعالیٰ اس بات سے خوش نہیں ہوسکتا کہ چند سو غیر مخلص بدنیت اس کے حضور پیش کر دو جس طرح بعض لوگ قربانی کرتے وقت جوسب سے لاغر بکرا ہوتا ہے اس کی قربانی کر دیتے ہیں یا بعض لوگ انسانوں کا جسم جو تمام اجسام سے زیادہ اچھا ہے خدا کی نگاہ میں اور فائن بھی زیادہ ہے اس کے گوشت کی بناوٹ جانور جیسی نہیں جانور کے گوشت کو انسانی جسم تحلیل کرتا ہے اور اپنے مطلب کی چیز لے لیتا ہے اور جو اس کے جسم سے مناسبت نہیں رکھتا اسے باہر نکال دیتا ہے فضلے کے ذریعہ سے۔ایک دفعہ میں لاہور جا رہا تھا کہ لاہور سے دس بارہ میل ورے مجھے بیل اور گائیں لاہور کی طرف جاتی ہوئی نظر آئیں۔میں موٹر میں تھا اور ان کی ہڈیاں نکلی ہوئیں اور گوشت غائب،صرف چمڑا اور ہڈیاں نظر آرہی تھیں ان کی شکل میں نے دیکھی میں نے کہا یہ جارہے ہیں مذبحہ خانے ،