خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 165 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 165

خطبات ناصر جلد سوم ܬ1ܙ خطبہ جمعہ ۱۹ / جون ۱۹۷۰ء انسانوں کی غذا بنیں گے۔ہماری کار نے جب ہارن بجایا تو ان میں سے ایک اسی طرح کا نیم مردہ بیل ہارن کی آواز سن کر اور ڈر کر دوڑ پڑا اور وہ تیس گز ہی دوڑا ہوگا کہ اس کی حرکت قلب بند ہو گئی اور مر گیا۔یہ تو انسان کی مناسب غذا نہیں۔پس انسان کو بہترین، اشرف المخلوقات بنایا ہے اللہ تعالیٰ نے اور اشرف ہی اس کو بنا چاہیے۔جسمانی قومی کے لحاظ سے بھی اور روحانی تربیت کے لحاظ سے بھی پس با اخلاق اور روحانی انسان بنا کر مبلغوں کو باہر بھیجنا چاہیے وہاں مبلغوں میں سے اس کا اثر ہے جو دعا کرنے والا اور بے نفس ہے اور اس کا اثر ہونا چاہیے۔جب ہم نے خدا کی طرف بلانا ہے تو جو خدا سے دور ہو گا وہ خدا کی طرف کیسے بلائے گا؟ خدا کی طرف تو وہی بلا سکتا ہے جو خدا تعالیٰ کا مقرب ہوگا ، جس کو اس کا قرب حاصل ہو گا جس کو خود اس کا قرب حاصل نہیں وہ دوسرے کو قرب کی راہیں کیسے دکھا سکتا ہے تو مبلغ کے لئے بنیادی چیز یہ ہے کہ وہ بے نفس ہو، غرور اور تکبر اس میں نہ ہو اور اللہ تعالیٰ سے اس کا زندہ تعلق ہو اور یہ قو میں خصوصاً افریقہ کی پیار کی اتنی بھوکی ہیں اور اتنی پیاسی ہیں کہ آپ اس کا اندازہ نہیں کر سکتے۔زمبیا کے ایک وزیر لندن کے ایروڈ رام پر اتفاقا مل گئے تھے جب ہم واپس آرہے تھے ان کا ہائی کمشنر بھی ان کے ساتھ تھا اور ایک دس بارہ سال کا بچہ بھی ساتھ تھا۔میں نے اس کو گلے لگالیا اور پیار کیا اس کا اتنا اثر ہوا زمبیا کے وزیر اور ہائی کمشنر پر کہ وہ میرا شکریہ ادا کر رہے تھے اور ہونٹ ان کے پھڑ پھڑا رہے تھے ، اتنے جذباتی ہو گئے تھے چنانچہ میں نے شیخ صاحب سے بات کی تو وہ کہنے لگے کہ یہ بات تو ان کے تصور میں بھی نہیں آسکتی کہ کوئی ان کے بچے کو پیار کر سکتا ہے اتنی مظلوم ہیں وہ قو میں اتنی پیار کی وہ پیاسی ہیں اور ہم وہاں اسلام کی محبت اور پیار اور ہمدردی اور غمخواری اور مساوات اور جذبہ خدمت ( یہ ہمارے ہتھیار ہیں ) دے کر اپنے مبلغوں کو بھیجتے ہیں بجائے اس کے وہ ان کے بچوں کو گود میں اٹھائے یہ کہے کہ ان کے ساتھ بیٹھنے میں میری بے عزتی ہے تو کام کیسے کرے گا وہ محبت کا پیغام کامیاب کیسے ہو گا ؟ وہاں میں نے دھڑلے کے ساتھ عیسائیوں کو یہ کہا کہ میں مانتا ہوں کہ جب تم صدیوں پہلے ان ملکوں میں داخل ہوئے تو تمہارا بھی یہی دعوی تھا کہ تم عیسائیت کی محبت کا پیغام لے کر آئے ہو