خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 161
خطبات ناصر جلد سوم ۱۶۱ خطبہ جمعہ ۱۹ / جون ۱۹۷۰ء اللہ تعالیٰ تمہارے بچوں پر فضل کرے گا لیکن ان کے خاندانی حالات میں ایک پیچیدگی ضرور پیدا ہوئی۔اگر ہم تین سال کے لئے باہر بھیجیں تو میں اپنی بہنوں کو یہ سنانا چاہتا ہوں کہ اگر ایک عیسائی لڑکی نوجوان اپنے بال کٹوا کر ساری عمر کے لئے Catholic Nun ( کیتھولک نن ) بنتی ہے اور تثلیث کے ساتھ یہ عہد کرتی ہے کہ میں تثلیث کی خدمت کے لئے کنواری رہوں گی تو کیا آپ بہنیں توحید کی خدمت کے لئے تین سال تک کے لئے اپنے خاوندوں سے علیحدہ نہیں رہ سکتیں؟ اگر آپ اتنا بھی نمونہ قربانی کا پیش نہیں کر سکتیں تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ بڑی جائز وجہ ہوگی کہ آپ اپنے خاوندوں سے ضلع لے لیں یہ آپ کے لئے بھی بہتر ہے اور ان کے لئے بھی بہتر ہے اور ہمارے لئے بھی بہتر ہے لیکن اگر آپ کے دل میں اللہ کی محبت اور پیار ہے تو اس قربانی کے لئے جو عیسائی نوں کی قربانی کے مقابلہ میں بالکل حقیر ہے تیار ہو جائیں۔پس ہمیں اپنے مبلغوں کو تین سال سے زائد عرصہ تک باہر نہیں رکھنا چاہیے، چاہے ہم انہیں چھ مہینہ کے لئے بلائیں پہلے چونکہ آمد و رفت کے لئے پیسے کم تھے جب خاندان بچوں سمیت باہر چلے جاتے تھے خرچ زیادہ ہوتا تھا تو تحریک کے لئے مجبوری تھی یعنی پہلا جو قانون تھا وہ مجبوراً جاری کیا گیا تھا کہ مبلغ کے ساتھ ان کے بیوی بچوں کو بھی بھیج دو۔دس دس پندرہ پندرہ سال وہاں رہیں گے اب تجربہ کے بعد ہمیں پتہ لگا کہ یہ درست نہیں ہے سوائے اس مبشر کے کہ جس کے ساتھ بیوی کا جانا جماعتی کام کے لئے ضروری ہے باقیوں کو قربانی دینی چاہیے۔دو تین سال کے بعد واپس آجائیں گے۔بہت سے معصوم احمدی ناجائز طور پر پانچ پانچ سال کی قید کی سزا بھی بھگتتے ہیں کئی ایک کا مجھے بھی علم ہے بالکل بے گناہ لیکن جھوٹی گواہیوں پر پانچ پانچ سال کی سزا ان کو مل گئی ، کیا اس قیدی کی بیوی اپنے خاوند سے پانچ سال علیحدہ نہیں رہتی؟ تو کیا تم اپنے رب کے عاشق کی جدائی تین سال برداشت نہیں کر سکتیں؟ اور وہ علیحدہ رہتی ہے تو اسے کوئی ثواب نہیں ملتا اور اگر تم علیحدہ رہوگی تو تمہیں ثواب ملے گا وہ علیحدہ رہتی ہے تو اکثر اس کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں ہوتا اور تمہاری دیکھ بھال کرنے والے موجود ہیں اللہ تعالیٰ کا تم پر فضل ہے۔