خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 162
خطبات ناصر جلد سوم ۱۶۲ خطبہ جمعہ ۱۹ / جون ۱۹۷۰ء یہ صحیح ہے کہ آپ بہنیں بعض دفعہ اپنے حقوق سے زیادہ کا مطالبہ کرنے لگ جاتی ہیں دنیا کی حرص میں اور آپ کی وہ بات نہیں مانی جاتی تو پھر آپ کے دل میں شکوہ پیدا ہوتا ہے لیکن اگر دنیا کی حرص نہ ہو اور صرف جائز حقوق ہوں تو جائز حقوق کی حفاظت کی ذمہ دار جماعت اور مہدی معہود کا خلیفہ ہے لیکن یہ فیصلہ کرنا بہر حال نظام کا کام ہے اور خلیفہ وقت کا کام ہے آپ کو اس دنیا میں بھی بہت سی سہولتیں مل جاتی ہیں کئی ہماری بہنیں وہاں جا کر اپنے خاوندوں کو پریشان کرتی ہیں کیونکہ دنیا کی حرص ان میں ہوتی ہے ان کی پوری تربیت نہیں ہوئی ہوتی اور عجیب کشمکش پیدا ہو جاتی ہے ایک مبلغ اور اس کی بیوی کے درمیان، وہ بے نفس زندگی گزارنا چاہتا ہے اور یہ ایسی کہ اس کا نفس موٹا اور دنیا کی لالچ اور حرص۔اس پر گھر میں جھگڑا رہتا ہے اس لئے وہ اپنا کام پورا نہیں کر سکتا لیکن بہت سی بیویاں اللہ تعالیٰ کی فدائی، بے نفس ایسی دیکھی ہیں کہ ہر وقت ان کے لئے دعائیں کرنے کو دل چاہتا ہے۔کلیم صاحب کی ان پڑھ بیوی ان کے ساتھ گئی تھی ان کو باہر گئے ہوئے بڑا لمبا عرصہ ہو گیا ہے انشاء اللہ اب وہ جلد واپس آرہے ہیں۔ان کی بیوی نے منصورہ بیگم کو بتا یا وہ کہنے لگی کہ جب میں یہاں آئی تو میرے دل میں یہ احساس پیدا ہوا کہ نہ مجھے انگریزی آئے نہ کوئی اور زبان آئے ، اردو تھوڑی بہت آتی ہے وہ بھی زیادہ نہیں آتی اور میں ایک مبلغ انچارج کی بیوی بن کر یہاں آئی ہوں مگر کوئی خدمت نہیں کر سکتی دعا کرتی رہی تو اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں یہ ڈالا کہ تم انگریزی سیکھنے کی بجائے ان کی مقامی زبان سیکھ لو پھر انہوں نے بڑی محنت سے وہاں سالٹ پانڈ کی مقامی زبان سیکھ لی اور بڑی اچھی زبان بولتی تھیں اللہ تعالیٰ نے ان کی اس خواہش اور آرزو کو پورا کیا۔ایسی خواہشیں مقام نعیم کی طرف لے جانے والی ہیں ان کو توفیق ملی کہ انہوں نے سینکڑوں افریقن احمدی بچوں کو قرآن کریم پڑھایا اور اس کا ترجمہ سکھایا کیونکہ ان کی زبان میں بڑی روانی سے بات کرتی تھیں پس ایسی بھی ہیں لیکن بعض دوسری قسم کی بھی ہیں جیسے بعض استثناء مبلغوں کے ہیں یہ استثناء ہیں اکثریت ایسی نہیں۔جو گندی مثالیں ہیں وہ بالکل استثنائی ہیں لیکن ہم ایک زندہ جماعت ہیں اور ایک زندہ جماعت میں ایک مثال بھی ایسی ہو تو اس کو برداشت نہیں کر سکتی حالانکہ برداشت کرنا چاہیے ورنہ آہستہ آہستہ زنگ بڑھتا چلا جاتا ہے اور زندگی کے