خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 148
خطبات ناصر جلد سوم ۱۴۸ خطبہ جمعہ ۱۲ / جون ۱۹۷۰ء رہی ہیں۔پیار سے کوئی ایک دوسرے سے معاملہ نہیں کرتا میں نے ان سے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ انسان انسان سے پیار کرنا سیکھے چونکہ ہیں تو یہ پڑھی لکھی ہوشیار قو میں نہ میں نے امریکہ کا نام لیا تھا اور نہ روس کا وہ آگے سے مجھے کہنے لگے کہ اب ہماری روس کے ساتھ Under Standing ( انڈرسٹینڈنگ ) ہو گئی ہے یعنی کچھ معاملہ نہی ہو گئی ہے، ایک دوسرے کو سمجھنے لگے ہیں وہ سمجھ گئے کہ یہ ہمیں کو سمجھا رہا ہے میں نے ان سے کہا یہ ٹھیک ہے تمہاری روس سے Under Standing ( انڈرسٹینڈنگ ) ہوگئی ہے But out of fear - Not out of love تم نے یہ سمجھوتہ اس خوف سے کیا ہے کہ ایک دوسرے کو ہلاک نہ کر دیں۔محبت کے نتیجہ میں یہ سمجھوتہ نہیں ہوا چنا نچہ وہ کھسیانے سے ہو کر کہنے لگے بات آپ کی ٹھیک ہے لیکن بہر حال ایک قدم صحیح راستے کی طرف اٹھ کھڑا ہوا ہے میں نے کہا یہ ٹھیک ہے یہ میں مان لیتا ہوں لیکن یہ ظلم ہے کہ ہم محبت کرنا بھول گئے ایک مسلمان کے لئے لمحہ فکر یہ ہے کہ جس کو وہ اپنا آقا ومطاع کہتے ہیں صلی اللہ علیہ وسلم جس کے متعلق وہ اس عقیدے کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ اللہ کا محبوب اور اللہ کی محبت اس کی محبت کے بغیر حاصل نہیں کی جاسکتی اسی کے مسلک کو چھوڑتے ہیں کس سے نفرت کی تھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی ہمیں بتائے جب سختی کی اصلاح کے لئے کی آپ کی زندگی میں انسان کے لئے نفرت اور حقارت کا کوئی ایک واقعہ بھی نہیں دکھا سکتا انسان کی بداعمالیوں سے نفرت بھی کی ، انہیں حقارت سے بھی دیکھا بداعمالیوں سے ہمارا بھی حق ہے کہ ہم نفرت کریں ورنہ ہمارے اندر وہ اثر کریں گی جس سے ممکن ہے ہمارے بچے ہلاک ہو جائیں لیکن بد عمل یعنی بر اعمل کرنے والے سے آپ نے نفرت نہیں کی اس یہودی سے آپ نے نفرت نہیں کی جس نے اپنی بیماری کی وجہ سے آپ کے بستر کو گندا کر دیا تھا اس قوم سے نفرت نہیں کی جس نے سالہا سال تک آپ کو آپ کے صحابہ کو انتہائی تکالیف پہنچائیں ، جنہوں نے اڑھائی سال تک شعب ابی طالب میں قید رکھ کر آپ کو بھوکا مارنا چاہا جب ان کی بھوک کا وقت آیا تو خدا کے اس بندے نے ان کے لئے روزی اور ان کے پیٹ بھرنے کا سامان پیدا کیا انہیں یہ نہیں کہا کہ تم حقیر اور قابل نفرت لوگ ہو۔جاؤ مر جاؤ بھوکے۔مجھے اس سے کیا بلکہ انسانی ہمدردی جوش میں آئی اور انسانی بھائی کا پیار جو ہے اس کی موجیں دل