خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 147 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 147

خطبات ناصر جلد سوم ۱۴۷ خطبہ جمعہ ۱۲ / جون ۱۹۷۰ء دینا کہ میرے چچانے پین کی اس وقت مدد کی تھی جب کہ انہیں مدد کی ضرورت تھی۔اگر وہ آپ کا یہ کام کر دیں تو میرا چچا بھی بہت خوش ہو گا غرض انہوں نے بڑی خوشی کا اظہار کیا لیکن میں نے نہیں کہا کہ اللہ تعالیٰ پر میرا توکل ہے اور وہ پورا کرے گا انشاء اللہ خدا کرے کہ وہ وقت مقدر جلد آجائے اور ہمارے لئے آج ہی وہ خوشیوں کے دن کی ابتداء بن جائے۔بو میں بھی گرمی میں مجھے سفر کے بعد بڑی کوفت کے باوجود کوئی اڑھائی ہزار احباب سے مصافحے کرنے پڑے تھے مجھے شبہ تھا کہ میں بے ہوش ہو کر نہ گر جاؤں جب یہ کیفیت پیدا ہوئی تو میں نے پانی مانگا اور پھر میں نے ان سے کہا مجھے پانی پلاتے جاؤ یا شاید ڈاکٹر صاحب تھے ان کو خیال آیا غرض تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد دوست مجھے پانی پلا دیتے تھے اور میں پھر وہ سلسلہ شروع کر دیتا یہاں بھی میں یہی کر رہا ہوں۔) آج کے خطبہ میں میں نے بعض اصولی اور بنیادی باتوں کا ذکر کیا ہے افریقہ میں اسلام کا پیغام لوگوں تک پہنچاتے وقت مجھے ان کی یہ کیفیت بڑی پیاری لگی کہ مذہب دل کا معاملہ ہے۔مذہب کے معاملہ میں لڑائی بالکل احمقانہ بات ہے چنانچہ وہ آپس میں بالکل نہیں لڑتے نہ عیسائی مسلمانوں سے اور نہ مسلمان عیسائیوں سے بلکہ امن سے وہ رہ رہے ہیں وہ آپس میں تبادلہ خیالات کرتے ہیں دلائل دیتے ہیں، ایسے دلائل کہ ان کو سن کر یہاں شاید لوگ ایک دوسرے کا سر پھوڑنے کے لئے تیار ہو جا ئیں مگر وہ بشاشت سے ایک دوسرے کی بات سنتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ جس کے دل کی کھڑکیاں کھول دے وہ اسلام لے آئے وہ اور بات ہے لیکن ان کو یہ پتہ ہے کہ مذہب بہر حال دل کا معاملہ ہے اسے سر پھوڑ کر حاصل نہیں کیا جاسکتا۔آپ یہ بھی دعا کریں کہ جن ملکوں میں یہ ذہنیت نہیں اللہ تعالیٰ ان ملکوں میں بھی یہ ذہنیت پیدا کر دے اور ان کو بھی سمجھ آجائے میں تو بڑی محدی کے ساتھ یہ بات کیا کرتا ہوں اور مخالف اسلام کو شرمندہ کر دیتا ہوں۔ہوائی جہاز میں دو امریکن بیٹھے ہوئے تھے ہم ۳۵ ہزار فٹ کی بلندی پر اڑ رہے تھے کہ کسی چھوٹی سی بات پر ان سے واقفیت ہوگئی وہ میرے پیچھے ہی بیٹھے ہوئے تھے مجھے موقعہ مل گیا میں نے ان سے کہا کہ میں تو حیران ہوتا ہوں کہ فرد فرد سے نفرت اور حقارت کا اظہار کر رہا ہے، قو میں قوموں کو نفرت اور حقارت سے دیکھ