خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 144 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 144

خطبات ناصر جلد سوم ۱۴۴ خطبہ جمعہ ۱۲ / جون ۱۹۷۰ء حاصل کرنی ہیں جن کی فطرتیں ایسی ہیں وہ واقعی بڑی پیاری فطرتیں ہیں وہ کسی کو نہ بتا ئیں خزانہ میں جمع کروائیں لیکن مجھے ضرور بتائیں تاکہ میں ان کا نام لے کر اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ طور پر جھکوں اور ان کے لئے دعائیں کروں۔میں تو کسی ہوں ہی نہیں۔میں تو آپ کے وجود کا حصہ ہوں پس مجھے ضرور اطلاع دیں۔وہ دوست جو زیادہ رقم دینے والے ہیں یعنی پانچ سو سے دو ہزار تک، دو ہزار سے پانچ ہزار تک اور پانچ ہزار سے او پر جہاں تک مرضی ہوان کے نام ہمیں بہر حال لکھنے پڑیں گے اور ان کو یاد دہانیاں بھی کروائی جائیں گی انگلستان سے میں ان سب دوستوں کے نام اور پتے لے آیا ہوں جنہوں نے اس فنڈ کے لئے وعدے کئے ہیں میرے ذہن میں یہ ہے کہ آج سے چھ ماہ کے بعد بطور reminder ( ریمائنڈر ) ہر ایک کو ایک عام خط لکھوں گا اور پھر چھ ماہ کے بعد دوسرا خط لکھوں گا کہ یا تو فوری ادا کر و یا اگلا سال آ رہا ہے نصف دوسرے سال میں جو باقی رہ گیا ہے وہ ادا کرو۔پس انشاء اللہ وہ ضرور دیں گے میں نے شروع میں بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ کہا ہے کہ میرے نام پر قربانیاں لیتا جا اور جماعت وہ قربانیاں دیتی چلی جائے گی میرا کام ہے کہ میں سوچوں اور اللہ تعالیٰ کی منشاء کے مطابق اپنا ہر منصوبہ بناؤں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے پین کے متعلق میں نے ابھی کوئی منصوبہ نہیں بنایا کیونکہ اگر میں صحیح سمجھا ہوں اللہ تعالیٰ کا منشاء بھی یہی ہے میں بہت پریشان تھا سات سوسال تک وہاں مسلمانوں کی حکومت رہی ہے اس وقت کے بعض غلط کار علماء کی سازشوں کے نتیجہ میں وہ حکومت مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گئی وہاں کوئی مسلمان نہیں رہا ہم نے نئے سرے سے تبلیغ شروع کی چنانچہ اس ملک کے چند باشندے احمدی مسلمان ہوئے وہاں جا کر شدید ذہنی تکلیف ہوئی۔غرناطہ جو بڑے لمبے عرصہ تک دارالخلافہ رہا جہاں کئی لائبریریاں تھیں، یو نیورسٹی تھی جس میں بڑے بڑے پادری اور بشپ مسلمان استادوں کی شاگردی اختیار کرتے تھے، مسلمان وہاں سے مٹادیئے گئے غرض اسلام کی ساری شان و شوکت مادی بھی اور روحانی بھی اور اخلاقی بھی مٹادی گئی ہے طبیعت میں اس قدر پریشانی تھی کہ آپ اندازہ نہیں کر سکتے غرناطہ جاتے وقت میرے دل میں آیا کہ ایک وقت وہ تھا کہ یہاں کے درو دیوار سے درود کی آواز میں اٹھتی تھیں آج یہ لوگ گالیاں دے رہے ہیں طبیعت