خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 145 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 145

خطبات ناصر جلد سوم ۱۴۵ خطبہ جمعہ ۱۲ جون ۱۹۷۰ء میں بڑا تکدر پیدا ہوا چنانچہ میں نے ارادہ کیا کہ جس حد تک کثرت سے درود پڑھ سکوں گا پڑھوں گا تا کہ کچھ تو کفارہ ہو جائے لیکن اللہ تعالیٰ کی حکمت نے مجھے بتائے بغیر میری زبان کے الفاظ بدل دیئے گھنٹے دو گھنٹے کے بعد اچانک جب میں نے اپنے الفاظ پر غور کیا تو میں اس وقت درود نہیں پڑھ رہا تھا بلکہ اس کی جگہ لا اله الا انت اور ا ا اا ھو پڑھ رہا تھا یعنی تو حید کے کلمات میری زبان سے نکل رہے تھے تب میں نے سوچا کہ اصل تو تو حید ہی ہے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت بھی قیام توحید کے لئے تھی میں نے فیصلہ تو درست کیا تھا یعنی یہ کہ مجھے کثرت سے دعا ئیں کرنی چاہئیں لیکن الفاظ خود منتخب کر لئے تھے۔درود سے یہ کلمہ کہ اللہ ایک ہے زیادہ مقدم ہے چنانچہ میں بڑا خوش ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی میری زبان کے رخ کو بدل دیا۔ہم غرناطہ میں دو راتیں رہے دوسری رات تو میری یہ حالت تھی کہ دس منٹ تک میری آنکھ لگ جاتی پھر کھل جاتی اور میں دعا میں مشغول ہو جاتا ساری رات میں سو نہیں سکا ساری رات اسی سوچ میں گزرگئی کہ ہمارے پاس مال نہیں یہ بڑی طاقتور قو میں ہیں مادی لحاظ سے بہت آگے نکل چکی ہیں ہمارے پاس ذرائع نہیں ہیں وسائل نہیں ہیں ہم انہیں کس طرح مسلمان کریں گے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جو یہ مقصد ہے کہ تمام اقوامِ عالم حلقہ بگوش اسلام ہو کر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خادم بن جائیں گی یہ بھی اقوام عالم میں سے ہیں یہ کس طرح اسلام لائیں گی اور یہ کیسے ہوگا ؟ غرض اس قسم کی دعائیں ذہن میں آتی تھیں اور ساری رات میرا یہی حال رہا چند منٹ کے لئے سوتا تھا پھر جاگتا تھا پھر چند منٹ کے لئے سوتا تھا۔ایک گرب کی حالت میں میں نے رات گزاری وہاں دن بڑی جلدی چڑھ جاتا ہے میرے خیال میں تین یا ساڑھے تین بجے کا وقت ہوگا میں صبح کی نماز پڑھ کر لیٹا تو یکدم میرے پر غنودگی کی کیفیت طاری ہوئی اور قرآن کریم کی یہ آیت میری زبان پر جاری ہوگئی :۔وَ مَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ فَهُوَ حَسْبُهُ إِنَّ اللهَ بَالِعُ اَمْرِهِ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قدرا - (الطلاق: ۴) اس بات کا بھی جواب آگیا کہ ذرائع نہیں کام کیسے ہوگا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پر تو گل رکھو اور جو شخص اللہ تعالیٰ پر توکل رکھتا ہے اسے دوسرے ذرائع کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہتی