خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 140
خطبات ناصر جلد سوم ۱۴۰ خطبہ جمعہ ۱۲ / جون ۱۹۷۰ء اللہ تعالیٰ کے فضل جس قوم پر نازل ہورہے ہوں اس پر بڑی بھاری ذمہ داریاں عائد کرتے چلے جاتے ہیں میری طبیعت پر اثر ہے اور میرے دل میں بڑی شدت سے یہ بات ڈالی گئی ہے کہ آئندہ ۲۳، ۲۵ سال احمدیت کے لئے بڑے ہی اہم ہیں کل کا اخبار آپ نے دیکھا ہو گا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ۴۵ء میں کہا تھا کہ اگلے بیس سال احمدیت کی پیدائش کے ہیں اس واسطے چوکس اور بیدار رہو بعض دفعہ غفلتوں کے نتیجہ میں پیدائش کے وقت بچہ وفات پا جاتا ہے میں خوش ہوں اور آپ کو بھی یہ خوشخبری سناتا ہوں کہ وہ بچہ ۶۵ء میں بخیر و عافیت زندہ پیدا ہو گیا جیسا کہ آپ نے کہا تھا کہ میرے دل میں یہ ڈالا گیا ہے کہ وہ بچہ خیریت کے ساتھ ، پوری صحت کے ساتھ اور پوری توانائی کے ساتھ ۱۹۶۵ء میں پیدا ہو چکا ہے۔اب ۶۵ ء سے ایک دوسرا دور شروع ہو گیا اور یہ دور خوشیوں کے ساتھ ، بشاشت کے ساتھ قربانیاں دیتے ہوئے آگے ہی آگے بڑھتے چلے جانے کا ہے۔اگلے ۲۳ سال کے اندر اللہ تعالیٰ کے منشاء کے مطابق اس دنیا میں ایک عظیم انقلاب پیدا ہونے والا ہے یا دنیا ہلاک ہو جائے گی یا اپنے خدا کو پہچان لے گی یہ تو اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے میرا کام دنیا کو انذار کرنا ہے اور وہ میں کرتا چلا آ رہا ہوں آپ کا کام انذار کرنا اور میرے ساتھ مل کر دعائیں کرنا ہے تا یہ دنیا اپنے رب کو پہچان لے اور تباہی سے محفوظ ہو جائے۔اب جیسا کہ میں نے انگلستان میں اپنے دوستوں سے کہا تھا کہ مجھے یہ فکر نہیں ہے پیسہ کہاں سے آئے گا کیونکہ خدا تعالیٰ نے شروع خلافت میں مجھے یہ بتایا تھا ” تینوں اینا دیاں گا کہ تورج جاویں گا“ چنانچہ آپ نے دیکھا کہ دو گھنٹے میں ۲۷، ۲۸ ہزار پاؤنڈ کے وعدے ہو گئے اور یہ بغیر کوشش کے ہوئے میں نے صرف یہ کہا تھا کہ میرے جانے سے پہلے پہلے دس ہزار پاؤنڈ کی رقم اس مد میں ضرور ہونی چاہیے۔عہد یدار مایوس تھے لیکن میں ایک سیکنڈ کے لئے مایوس نہیں ہوا مجھے پتہ تھا کہ میرے خدا نے کہا ہے کام کر و اگر میرے پاس ایک لاکھ پاؤنڈ ہوتا اور میرا رب مجھ سے کہتا کہ کم از کم ایک لاکھ پاؤنڈ خرچ کر دو تو میں اپنا لاکھ پاؤنڈ خرچ کر کے آپ کے پاس آتا کہ میرے پاس جو تھا وہ میں نے خرچ کر دیا اور یہ کم سے کم ہے لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ میں اس کا پہلا مخاطب ہوں مجھے کام کر دینا چاہیے۔اب جب مجھے اس نے کہا کہ کم سے کم اتنا خرچ کرو تو