خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 139
خطبات ناصر جلد سوم ۱۳۹ خطبہ جمعہ ۱۲ / جون ۱۹۷۰ء جس کا میں ذکر کر چکا ہوں میں ان کو مایوسی کے دور کرنے والا پیغام بھی دیا کرتا تھا۔کیونکہ بڑا ظلم ہوا ہے ان پر ایک طبقہ میں مایوسی بھی پائی جاتی تھی پس اللہ تعالیٰ نے اس کی بھی توفیق دی کہ میں ان کی مایوسیوں کی دور کروں اور امیدوں کو ابھاروں تا کہ آئندہ نسلیں مسرت کی زندگی گزار سکیں ہماری دعا ہے کہ وہ دینی اور دنیوی ہر لحاظ سے بہتر زندگی گزار سکیں۔جس نمائندہ عورت کا میں ذکر کر رہا ہوں اس نے دیکھا کہ میں نے سکول میں ایک لڑکے کو اپنی جیب سے دو پاؤنڈ نکال کر دیئے علاوہ اس انعام کے جو اسے سکول کی طرف سے ملنے والا تھا بعد میں وہ ہمارے پرنسپل سے کہنے لگی کہ یہ بچہ ہے اس نے یہ پاؤنڈ خرچ کر دینے ہیں اور یہ بڑا ظلم ہوگا اس لئے تم اسے کہو کہ ایک پاؤنڈ میرے پاس بیچ دے کیونکہ میں اسے خرید کر تبرک کے طور پر اپنے پاس رکھنا چاہتی ہوں پرنسپل نے مجھے بتایا میں نے کہا اس بچے کو محروم نہ کریں میں اسے ایک پاؤنڈ دے دیتا ہوں چنانچہ میں نے دستخط کر کے ایک پاؤنڈا سے دے دیا پھر اس نے منصورہ بیگم سے کہا کہ ہمارا آدھا خاندان مسلمان ہے اور آدھا عیسائی ہے انہوں نے مجھ سے ذکر کیا میں نے اسے تبلیغ کی اور اسے بتایا کہ عیسائیت یہاں یہ دعوی لے کر آئی تھی کہ مسیحیت کے پاس محبت کا پیغام ہے مگر وہ ناکام ہوئی اور عیسائی اقوام نے تم پر ظلم ڈھائے اب ہم آئے ہیں قریباً پچاس سال سے تمہارے ملک میں کام کر رہے ہیں اور تم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہو کہ سوائے ہمدردی اور مساوات اور اخوت کے اور کوئی جذبہ ہمارے دلوں میں نہیں ہے یہ لو بیعت فارم تم اسے پڑھو اور اللہ کے حضور دعا کرو میں نے اسے یہ نہیں کہا کہ ابھی احمدی ہو جاؤ کیونکہ یہ دل کا معاملہ ہے جب تک دل نہیں مانے گا تمہارے احمدی ہونے کا کوئی فائدہ نہیں ہے اللہ تعالیٰ کے حضور تم دعا کرو اگر احمدیت یعنی اسلام سچا ہے تو اللہ تعالیٰ تمہیں اس کے قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے اگر تمہارے اوپر روشنی ظاہر ہو جائے تو میں یہ ضرور کہوں گا کہ پھر کسی سے نہ ڈرنا اپنے باپ سے بھی نہ ڈرنا اور سچائی کو قبول کر لینا اس کی طبیعت پر یہ اثر تھا کہ چلتے وقت اس نے منصورہ بیگم سے کم از کم آٹھ دس دفعہ کہا کہ حضرت صاحب سے میرے لئے دعا کی درخواست کرتی رہیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے صداقت کو قبول کرنے کی توفیق دے آپ بھی دعا کریں۔