خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 135
خطبات ناصر جلد سوم اله خطبہ جمعہ ۱۲ / جون ۱۹۷۰ء میں کوئی گھڑی ایسی نہیں پائی جس میں اللہ تعالیٰ کا فضل نازل نہ ہوا ہو اور کوئی گھڑی ایسی نہیں جس میں انسان پر یہ ذمہ داری نہ آتی ہو کہ وہ اس کے فضلوں کا منادی بنے اتنے فضل ہیں اتنے فضل ہیں کہ شمار نہیں کئے جا سکتے۔آپ یہ سوچیں کہ سات ہزار میل کے فاصلے پر مغربی افریقہ کے ممالک ہیں جب انہوں نے محبت اور خوشی کے اظہار کئے تو میں نے بڑی استغفار کی ، بڑی دعا کی ان لوگوں کے لئے ، بڑا فکر اور غور کیا پھر مجھے مسئلہ سمجھ میں آ گیا وہاں پہنچنے کے چند دن بعد ایک دن کھڑا ہوا اور میں نے ان سے کہا کہ آپ بے حد خوش نظر آتے ہیں اور آپ خوشی کے مستحق ہیں اس لئے آپ کو خوش ہونا چاہیے آپ اس لئے خوش ہیں کہ جماعت احمدیہ کی قریباً اسی سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے اور آپ لوگوں کی زندگیوں میں بھی یہ پہلا موقع ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ محبوب مہدی جو امت محمدیہ میں واحد و یکتا ہے۔حضرت محمد مصطفی اصلی اللہ علیہ وسلم کو کوثر عطا ہونے کا وعدہ دیا گیا تھا کہ بے شمار فدائی تجھے دیئے جائیں گے۔اس وعدہ کے پورا ہونے پر اس اُمت مسلمہ میں سے جو اتنی بڑی ہے کہ اس کا شمار نہیں صرف ایک کو چنا اور اس کے متعلق فرما یا اِنَّ لِمَهْدِينَا۔اپنا مہدی کہا اور صرف اس ایک کے متعلق فرمایا کہ جب بھی وہ آئے تو جو بھی اُمت محمدیہ کے افراد اس زمانہ میں ہوں ان کا یہ فرض ہے کہ وہ میری طرف سے اسے سلام پہنچا ئیں۔بڑی قدر دانی اور پیار کا اظہار ہے یہ اتنی قدر دانی ہے کہ جس کی کوئی انتہا نہیں وہ محبوب اور وہ وجود جو حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ پیارا تھا آج حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے اس محبوب کا ایک خلیفہ تمہارے درمیان موجود ہے اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ تو فیق عطا کی ہے کہ تم اسے دیکھو تم اس سے باتیں کرو اور تم اس کی باتیں سنو تم اس کے وجود اور اس کے کلمات سے برکت حاصل کرو۔خوش ہوا اور خوشی سے اچھلو کہ آج کا دن تمہارے خوش ہونے کا دن ہے میں نے انہیں کہا کہ تم بھی خوش اور میں بھی خوش۔تم تو اس لئے خوش ہو کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ محبوب روحانی فرزند کا ایک خلیفہ تم میں موجود ہے اور میں اس لئے خوش ہوں کہ آج سے اتنی سال قبل ایک یکا و تنہا آواز ایک Unknown ( آن نون ) یعنی غیر معروف گاؤں