خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 131 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 131

خطبات ناصر جلد سوم خطبہ جمعہ ۱۲ / جون ۱۹۷۰ء یعنی اے آدم کے بیٹو! مال بھی میرا ہے اور جنت بھی میری ہے اور تم بھی میرے بندے ہو۔اے میرے بندو! میں تم پر یہ احسان کرتا ہوں کہ جو میری جنت ہے وہ میرے اس مال سے خرید لو جو میں نے تمہیں دیا ہے بچوں کے نرم نرم ہونٹوں سے نکلی ہوئی یہ نظم بہت ہی پیاری لگتی تھی۔بہر حال یہ ایک حقیقت ہے جس سے کوئی ہوش مند انسان انکار نہیں کر سکتا کہ مال بھی اللہ کا اور جنت بھی اللہ کی اور بندہ بھی اللہ کا اور اللہ تعالیٰ بطور احسان یہ فرماتا ہے کہ میرے مال سے میری جنت خرید لوپس میں نے اپنے بھائیوں سے یہ کہا کہ مجھے یہ فکر نہیں کہ مال کیسے آئے گا۔مال تو انشاء اللہ ضرور آئے گا کیونکہ خدا کہتا ہے خرچ کر واب ایک شخص کو خدا کہے کہ خرچ کرو اور جیبیں اس کی رکھے خالی پھر تو وہ ہندوؤں کا خدا ہوگا یا عیسائیوں کا خدا ہو گا یا ان مسلمانوں کا خدا ہو گا جو یہ کہتے ہیں کہ ایک مسلمان کو سچی خواب بھی نہیں آسکتی ہمارا وہ خدانہیں ہمارا خدا تو قادر وتوا نا خدا ہے وہی اللہ جو ہمارے محبوب محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر اپنی تمام طاقتوں اور صفات کے ساتھ جلوہ گر ہوا وہ ہم سے بولتا بھی ہے اور ہم دن رات اس کی قوت اور طاقت کے معجزانہ سلوک اپنے ساتھ دیکھتے بھی ہیں۔فکر یہ ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہماری سعی کو سعی مشکور بنا دے یہ نہ ہو کہ خدانخواستہ کہیں ہماری کسی غلطی یا غفلت یا گناہ یا برائی یا کسی وقت کے تکبر کے نتیجہ میں وہ دھتکار دی جائے۔امام رفیق صاحب نے مجھے کہا وقت تھوڑا ہے اور آپ نے اتنی بڑی رقم جماعت کے ذمہ لگا دی ہے جو فضل عمر فاؤنڈیشن کی ٹوٹل رقم سے دگنی سے بھی زیادہ ہے اور جسے انہوں نے تین سال کی کوششوں کے بعد اکٹھا کیا ہے چنانچہ اس سلسلہ میں چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے بڑے دورے کئے ہمارے شیخ مبارک احمد صاحب بھی مہینہ ڈیڑھ مہینہ وہاں رہ کر آئے اور دورے کئے تب جا کر تین سال میں ۲۱ ہزار پاؤنڈ جمع ہوئے اور میں نے دو گھنٹے میں جو خطاب کیا تھا ان دو گھنٹوں کے اندر اسی وقت ۲۸،۲۷ ہزار پاؤنڈ کے وعدے اور نقد رقم جمع ہوگئی۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا میری طرف سے نہیں تھا لیکن اس کرسی اور مقام کی اللہ تعالیٰ غیرت رکھتا ہے جس مقام پر اس نے مجھے بٹھا دیا ہے۔امام صاحب مجھے کہتے تھے کہ یہ رقم جمع نہیں ہوئی آپ مجھے مہلت دیں میں دورے کروں گا اور یہ دس ہزار پاؤنڈ کی رقم جمع کروں گا۔میں یہ سن کر ہنس پڑا