خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 125 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 125

خطبات ناصر جلد سوم ۱۲۵ خطبہ جمعہ ۱۲ / جون ۱۹۷۰ء ہوتا تو وہی نعرے لگتے جب بھی میں کمرے سے باہر آتا وہ نعرے لگاتے غیر ملکی یہ دیکھ کر حیران ہوتے اور دلچسپی لیتے اور شاید دل میں غصہ بھی آتا ہو مگر ان کو کسی سے کوئی غرض نہیں تھی وہ تو دل میں ایک جوش تھا کہ احمدیت نے ہمیں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا روشن اور حسین چہرہ دکھایا اور اللہ قادر وتوا نا سے زندہ تعلق پیدا کیا۔بو میں ہم گئے تو وہاں گورنمنٹ کی لاج میں اتنا چراغاں تھا کہ جس طرح ربوہ نے چراغاں کیا وہاں بھی چراغاں تھا ہمارے ایک دوست نے کہا کہ آپ نے تکلف کیا ہے آپ نے یہاں اتنا خرچ کر دیا ہے اس نے آگے سے جواب دیا کہ ہمارے دلوں میں چراغاں ہو رہا ہے ہم اپنے درود یوار کو اس سے محروم کیسے رکھ سکتے ہیں یہ ان کی قلبی کیفیت ہے اور یہ وہ محبت کا پیغام ہے جسے وہ آگے پہنچا رہے ہیں پس یہ وہ چیز ہے جو غیروں کے دل بھی جیت رہی ہے۔کماسی میں Reception(ری سپشن ) پر ایک بڑے اثر ورسوخ والا افریقن آیا وہاں کے جو پیرا ماؤنٹ چیف ہیں وہ خود گفتگو نہیں کرتے انہوں نے اپنی طرف سے بیچ میں واسطے رکھے ہوئے ہیں اور یہ ان کے Spokesman ( سپوکس مین ) کہلاتے ہیں چنانچہ ایک پیراماؤنٹ چیف کا Spokesman (سپوکس مین ) آیا وہ مسلمان نہیں تھا مجھ سے کہنے لگا کہ میں ڈیڑھ سو میل سے اس لئے آیا ہوں کہ میں بیمار ہوں اور آپ سے میں نے درخواست کرنی تھی کہ آپ میرے لئے دعا کریں۔ایک اور پیرا ماؤنٹ چیف آئے ہوئے تھے وہ اپنے ساتھ ایک ممبر لیجسلیٹو اسمبلی بھی لائے ہوئے تھے وہ مجھ سے کہنے لگے کہ میں اتنی دور سے آیا ہوں ہمارے علاقہ میں ڈاکٹر کی ضرورت ہے آپ وہاں میڈیکل سنٹر کھولیں اور یہ ایم۔پی ( ممبر پارلیمنٹ ) جو ہیں یہ اس بات کا ذمہ لیتے ہیں کہ حکومت کے قواعد کے مطابق ( جسے Red tapism ( ریڈ ٹیپ ازم) کہتے ہیں ) مختلف دفاتر سے جو کام کروانا ہوگا وہ یہ کروا کر دیں گے میں نے ان سے کہا ٹھیک ہے آپ یہ کام کروادیں ہم آدمی بھیج دیں گے۔میں نے بتایا ہے کہ گوون نے میرے ساتھ اس طرح گفتگو کی جس طرح کہ وہ بڑا پرا ناواقف