خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 124
خطبات ناصر جلد سوم ۱۲۴ خطبہ جمعہ ۱۲ / جون ۱۹۷۰ء ہے باقی تو سارا افسانہ ہے اللہ تعالیٰ کی ذات ہی حقیقت اور وہی باقی رہنے والی ہستی ہے۔مثلاً ایک بڑھیا جسے پوری طرح نظر بھی نہیں آتا تھا سفر بھی نہیں کر سکتی تھی اس نے دو مہینے خرچ کر کے ایک ٹوکرا بنایا اور اپنی بیٹی کو بھیجا اور تاکید کی کہ اپنے ہاتھ سے دینا اور دعا کے لئے کہنا وہ بچی کہنے لگی کہ میری ماں سفر نہیں کر سکتی تھی مجھے اس نے یہ ٹوکرا دے کر بھیجا ہے اس کے بنانے پر اس نے دو ماہ خرچ کئے ہیں ہمارے ساتھیوں سے غلطی ہوئی وہ سیرالیون میں رہ گیا میں نے کہا یہ ٹوکرا پیچھے نہیں رہے گا چنانچہ وہاں تار دی اور اسے ہوائی جہاز کے ذریعہ لندن منگوا یا اور اب اسے میں یہاں لے آیا ہوں میں نے ان سے کہا کہ تم یہ دیکھتے ہو کہ بازار میں اس کی قیمت دسن اروپے ہے اور میں یہ دیکھتا ہوں کہ جس پیار نے اس کو بنایا ہے دنیا میں اس کی کوئی قیمت نہیں ہے، یہ تو میں چھوڑ کر نہیں جاؤں گا بعض نے کہا کہ یہ کپڑا چھ ماہ سے تیار کرنا شروع کیا تھا اور اب ہم تیار کر کے اس کو آپ کے لئے لائیں ہیں دھاگہ بھی ہم نے بنایا پھر کپڑا بھی ہم نے اپنے ہاتھ سے بنایا اور پھر اسے آخری شکل جو دینی تھی وہ بھی اپنے ہاتھ سے دی یہ کھدر کے بڑے موٹے وزنی کپڑے ہیں آپ انہیں دیکھیں گے تو کہیں گے کہ بازار میں شاید سات ساڑھے سات روپے میں مل جائیں لیکن میں نے کہا میں ان کو نہیں چھوڑوں گا چاہے ان کے کرایہ پر ہزاروں روپے ہی کیوں نہ خرچ کرنے پڑیں کچھ ہمارے ساتھ آگئے ہیں کچھ کے یہاں لانے کا ہم انتظام کر کے آئے ہیں وہ سارے انشاء اللہ یہاں پہنچ جائیں گے۔پس احمدیت کے ساتھ ان کا اس قسم کا پیار ہے اور وہ احمدیت کے فدائی ہیں بالکل نڈر ہیں۔لیگوس میں ہم پہنچے تو ہوٹل کے باہر سینکڑوں بچے تھے جو احمدیت زندہ باد، اسلام زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔” زندہ باد کا لفظ استعمال کرتے ہیں کیونکہ اسے سارے سمجھتے ہیں نیز اهلًا وسهلا کہہ رہے تھے پس وہ نعرے لگا رہے تھے جب میں آگے بڑھا تو ہمارے احمدی بھائی نعرے لگاتے ہوئے اس کے ایک بہت بڑے ہال میں داخل ہو گئے۔چوتھی منزل پر ہمارے کمرے تھے جب ہم سیڑھیاں چڑھنے لگے تو یہ بھی نعرے لگاتے ہوئے ساتھ جارہے تھے یہاں تک کہ دروازہ آگیا اور یہ بھی ساتھ تھے صرف اس وقت ہی نہیں بلکہ اگر دن میں مجھے تین دفعہ نیچے اترنا