خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 121
خطبات ناصر جلد سوم ۱۲۱ خطبہ جمعہ ۱۲ / جون ۱۹۷۰ء کی یاد میں وہ ایسے قصیدے پڑھتے ہیں کہ انسان کے لئے اپنے جذبات پر قابو پانا مشکل ہو جاتا ہے اور نڈر ہو کر لاؤڈ سپیکر لگا کر لاکھوں کی آبادی کے شہروں میں گاتے پھرتے ہیں کہ جس مسیح کی انتظار تھی وہ آ گیا مثلاً ہم جب ابادان گئے یہ شہر قریب لیگوس کے برابر ہے پہلے بڑا تھا اب کم ہے اس میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔انہوں نے سارے شہر میں یہ منادی کی کہ جس مہدی کی انتظار تھی وہ آ گیا اور اس کا نائب اور تیسرا خلیفہ تمہارے اندر موجود ہے اس سے برکتیں حاصل کروانہوں نے نڈر ہو کر سارے شہر میں اونچی منادی کی پھر بچے یہی گاتے ہیں کہ مہدی آ گیا انسان اپنے جذبات پر قابو نہیں پاسکتا۔پس انہوں نے اس بنیادی حقیقت کو جان لیا ہے کہ مذہب کا معاملہ دل سے ہے طاقت اور زور کے ساتھ دل نہیں بدلا جا سکتا اور چونکہ وہ اس کو شناخت کر چکے ہیں اس لئے ہمیں بڑی امید ہے کیونکہ ہمارے پاس پیغام ہی پیار کا ہے اخوت کا ہے اور ہمدردی کا ہے اور غم خواری کا ہے اور مساوات انسانی کا ہے۔میں نے عیسائیوں میں سے کسی سے بات نہیں کی جس نے آگے سے یہ نہ کہا ہو کہ جو آپ کہتے ہیں وہ ٹھیک ہے۔میں نے لائبیریا میں ایک بارہ تیرہ سال کے بچے سے پوچھا تمہارا نام کیا ہے اس نے غالباً جانسن کہا میں نے کہا نہیں اس وقت کے بعد تمہارا نام جمیل ناصر ہے اور تم مسلمان ہو وہ کہنے لگا Yes Sir۔وہ بچہ ہمارے امین اللہ خاں سالک کے ہاں کام کرتا ہے انہوں نے اگلے روز بتایا کہ اس نے گھر جا کر کہا کہ میرا نام اب جانسن نہیں ہے میرا نام اب جمیل ناصر ہے اور میں مسلمان ہوں ان کے دل ہم نے جیت لئے ہیں لیکن ان کے مونہوں سے کہلوانا ہمارا کام ہے ہم بہتوں تک پہنچے ہی نہیں ایک جگہ ایروڈ روم پر ایک ترک دکان دارلڑ کی سے ہمیں پتہ لگا کہ ہم بہت سی جگہ غفلت کر جاتے ہیں، تبلیغ نہیں کرتے یا اتنی قربانی نہیں دیتے جتنی ہمیں قربانی دینی اس لڑکی کو دلچسپی پیدا ہوئی اس نے چوہدری محمد علی صاحب سے پوچھا کہ یہ کون ہیں اور میں ان سے ملنا چاہتی ہوں ( بعد میں وہ منصورہ بیگم سے بڑے پیار سے ملیں بھی ) چوہدری صاحب نے کہا کہ امام مہدی آگئے ہیں اور یہ ان کے تیسرے خلیفہ ہیں اس نے آگے سے جو جواب دیا وہ دل میں بڑا در داور دکھ پیدا کرنے والا ہے وہ کہنے لگی اگر امام مہدی آگئے ہیں تو مجھے کیوں علم نہیں ؟ بات اس کی ٹھیک