خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 120
خطبات ناصر جلد سوم ۱۲۰ خطبہ جمعہ ۱۲ / جون ۱۹۷۰ء کھل کر یہ بات بھی کی کہ ان غیر ممالک نے اور غیر ممالک کے مشنریز نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی کہ ہمارے ملک کو تباہ کر دیں اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ہمیں ان کے بڑے منصوبوں سے محفوظ رکھا اور ہمارے ملک میں وہ تباہی نہیں آئی جو یہ چاہتے تھے کہ یہاں تباہی بر پا ہو جماعت کی تعریف کے علاوہ اس نے مجھے یہ کہا کہ ہم بڑے خوش قسمت ہیں کہ تمام مذاہب کے لوگ یہاں بھائی بھائی کی طرح رہتے ہیں میں نے دل میں سوچا کہ یہ ہمارے ممالک سے اچھے ہیں انہیں یہ علم حاصل ہو چکا ہے اور یہ اس حقیقت کی شناخت حاصل کر چکے ہیں کہ مذہب کا تعلق دل سے ہے طاقت کے زور سے زبان سے تو کچھ کہلوایا جا سکتا ہے لیکن دل نہیں بدلے جا سکتے۔ساری دنیا کے ہائیڈ روجن بم مل کر بھی کسی ایک آدمی کے دل میں کوئی خوشگوار تبدیلی نہیں پیدا کر سکتے یہ ناممکن بات ہے البتہ یہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جلوہ ہے جس نے اربوں ارب انسانوں کے دلوں میں تبدیلی پیدا کر دی۔اللہ تعالیٰ نے گوٹر کا جو وعدہ دیا تھا وہ پورا کیا اس وقت بھی اور پھر اس وقت سے لے کر اب تک اور پھر قیامت تک ایسے لاکھوں کروڑوں اربوں انسان پیدا ہوتے رہیں گے جو اس مذہبی حسن کے گرویدہ ہوکر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے والے ہوں گے پس ان قوموں کی زندگی کی یہ حقیقت معلوم ہو چکی ہے اور اس لحاظ سے وہ بڑے خوش قسمت ہیں اور سچ کہا تھا گوون نے کہ ان کی یہ بڑی خوش قسمتی ہے کہ ان کے ملک میں تمام مذاہب ، تمام فرقے امن سے رہ رہے ہیں کوئی کسی کے خلاف زبان درازی نہیں کرتا إِلَّا مَا شَاء اللہ شاید کوئی استثناء ہو جسے وہ قوم بہر حال پسند نہیں کرتی۔ایک اور مثال دے دیتا ہوں گھانا میں ا کرا کے مقام پر ہمارا ایک سکول ہے اور پھر ۱۷۰ میل کے فاصلے پر کماسی میں ہمارا ایک سکول ہے۔کماسی سے ستر میل پر ٹیچی مان ایک جگہ ہے جہاں ہمارے افریقن بھائی عبدالوہاب بن آدم صاحب بطور مبلغ رہتے ہیں وہ بڑا ہی اچھا کام کر رہے ہیں وہ بھی اور ان کی بیوی بھی۔بچوں میں قرآن کریم اور مذہبی تعلیم ، احمدیت اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا عشق پیدا کر دیا ہے ان بچوں کو جب آپ دیکھیں تو آپ کے بچوں کو رشک آجائے اور آپ کو بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام