خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 110
خطبات ناصر جلد سوم 11۔خطبہ جمعہ ۱۵ رمئی ۱۹۷۰ء عیسی علیہم السلام سب انسان تھے تو باقی انسان بھی انسان ہیں۔اب وقت ہے کہ دنیا اس سبق کو یاد کر لے کہ کسی انسان کو انسانیت کے حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔اگر تمام انسان اللہ تعالی کی نظر میں انسان ہیں تو انسان کی نظر میں بھی انہیں انسان تسلیم کیا جانا چاہیے۔دنیا کے مسائل اس اصل کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔انسان نے ہائیڈ روجن اور ایٹم بمبوں سے تباہ کرنا تو سیکھ لیا لیکن پیار کرنا نہ سیکھا۔نفرت تو کی لیکن محبت کرنے سے قاصر رہا۔فرمایا میں نے اہلِ افریقہ کو بتایا کہ صد ہا سال قبل آپ کے پاس ایک آواز پہنچی۔جو بظاہر محبت اور امن کی آواز تھی لیکن اس آواز کے جلو میں اور آواز میں بھی تھیں جو یہ کہہ رہی تھیں کہ ہم ناجائز منافع حاصل کرنے (exploit) آئے ہیں اس لئے یہ بظاہر امن لیکن باطن ناجائز منفعت کی آواز کامیاب نہ ہوسکی۔یہ آواز اس لئے کامیاب نہ ہوسکی کیونکہ اس سے ایک عظیم تر پیغام اللہ تعالی کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے آچکا تھا۔جب آپ نے اعلان فرمایا کہ قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشر مثلكم تو یہ محض نظریہ نہ تھا۔آپ نے عملاً بھی اسے ثابت کر دکھایا۔فرمایا سردارانِ مکہ یا افریقن محاورے میں مکے کے پیرا ماؤنٹ چیفس کا ایک غلام تھا۔اسے آسمانی نور ملا اور اس نے اُسے قبول کر لیا۔اسے سخت اذیتیں دی گئیں۔پیرا ماؤنٹ چیفس نے آپ پر درد ناک مظالم ڈھانے شروع کر دیئے۔ایک مسلمان بھائی نے آپ کو خرید کر آزاد کر دیا۔اس کے بعد حضور نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ دنیا کی نظروں میں آپ آتی تھے سکالر نہیں تھے لیکن اللہ تعالیٰ کی محبت کے خزانوں سے دل مالا مال تھا اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے آپ کو بچنا اور خود آپ کا استاد بن گیا۔خود آپ کا پروفیسر بن گیا اور اس طرح اللہ تعالی کی یونیورسٹی میں آپ کو تعلیم دی گئی۔منجملہ معجزات ایک معجزہ آپ کو قرآن کا دیا گیا جس سے کئی معجزے پیدا ہوئے۔فتح مکہ بھی ایک معجزہ تھا۔چھ ماہ پہلے کسی کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ مکہ فتح ہو جائے گا۔جب مکہ فتح ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جھنڈا بنایا جس کا نام لوائے بلال رضی اللہ تعالیٰ رکھا اور سردارانِ مکہ سے فرمایا کہ اگر جان کی امان چاہتے ہو تو اسی بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جھنڈے تلے آجاؤ جسے تم حقارت سے دیکھا کرتے تھے۔