خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 107 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 107

خطبات ناصر جلد سوم ۱۰۷ خطبہ جمعہ ۸ مئی ۱۹۷۰ء اس کی روح اللہ تعالیٰ کے حسن و جمال کا لباس پہن لیتی ہے۔اور اس کے وجود میں نئی زندگی کے آثار کچھ اس طرح نمودار ہو جاتے ہیں جس طرح درختوں کی شاخیں موسم بہار کے آنے پر پتوں اور پھولوں سے لد جاتی ہیں اور حسن و جمال کا مرقع بن جاتی ہیں۔اس کے بعد حضور نے مساجد کے فلسفہ و حکمت پر روشنی ڈالی اور تفصیل سے اس حقیقت کو واضح فرمایا کہ مسجد کا مالک اللہ تعالیٰ خود ہے یہ خدائے واحد کا گھر ہے جو شخص خدائے واحد کی عبادت کرنا چاہے وہ مسلمان ہو یا نہ ہوا سے حق حاصل ہے کہ وہ اپنے طریق پر فریضہ عبادت ادا کر سکے اس لحاظ سے مسجد تمام عبادت گاہوں ، گرجوں اور صومعوں کی پناہ گاہ اور محافظ بن جاتی ہے۔مسجد اعلان ہے اس امر کا کہ تمام عبادت گاہیں جو خدائے واحد کی طرف منسوب ہوتی ہیں اسی کے لئے ہیں اور وہی ان کی حفاظت کا ضامن ہے۔اس کے بعد حضور نے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام سے تفصیل سے استدلال فرمایا اور فرمایا کہ حضرت مہدی علیہ السلام ہمیں نور دینے کے لئے آئے تھے۔تا کہ ہم سچے ایمان کا نورا اپنی ذات میں مشاہدہ کر سکیں آپ کا یہ فرض اولین ہے اور آپ کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نیکی اور سچائی کی توفیق آپ کو حاصل ہو اور ایسی حسین روح آپ کو دی جائے جو اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ کو محبوب ہو دنیا آج اپنے خالق کو بھول چکی ہے اور مکمل تباہی کے کنارے پر کھڑی ہے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے دنیا کو اپنا نو ر اور محبت اور عرفان بخشے اور اسے اس خوفناک انجام سے بچالے۔اس کے بعد حضور نے بلند آواز سے لمبی دعا فرمائی اور فرمایا کہ میں دعا کرتا ہوں اور آپ اس میں خاموشی سے شامل ہوں۔اور اپنے دل میں آمین کہتے جائیں۔روزنامه الفضل ربوه ۳۱ مئی ۱۹۷۰ ء صفحه ۳)