خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 106
خطبات ناصر جلد سوم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے فرمایا۔1+4 خطبہ جمعہ ۸ مئی ۱۹۷۰ء I SHALL GIVE YOU A LARGE PARTY OF ISLAM میں تجھے مسلمانوں کا بہت بڑا گروہ عطا کروں گا آپ کو یہ حقیقت اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جماعت احمد یہ کوئی کلب نہیں ہے ایک کلب یا ایسوسی ایشن اور ایک الہی جماعت میں بہت فرق ہوتا ہے کسی کلب یا ایسوسی ایشن کی بنیاد باہمی خیر سگالی اور افہام و تفہیم پر ہوتی ہے اس کے برعکس اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ جماعت اللہ تعالیٰ سے طاقت حاصل کرتی ہے ہمارے قادر و توانا خدا نے یہ جماعت ایک خاص مقصد کے لئے قائم فرمائی ہے اور سید نا حضرت مہدی علیہ السلام کو ایک خاص مقصد کے لئے مبعوث فرمایا ہے وہ مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان مضبوط ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کی صفات کا عرفان حاصل ہو یہ عرفانِ الہی ہی ہے جس سے انسان کا ایمان بڑھتا ہے اور یقین مستحکم ہوتا ہے وہ جان لیتا ہے کہ اس کی فلاح دارین اللہ تعالیٰ کی ذات سے وابستہ ہے اس کی تمام اُمید میں اسی کی رضا پر مرکوز ہو جاتی ہیں۔ایسا صاحب عرفان ویقین انسان خود اعتمادی اور وثوق کے ساتھ اپنے مقصد کی جانب بڑھتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں کے روشن نشانات اس کے سامنے موجود ہوتے ہیں اس کا ارادہ مضبوط اور عزم راسخ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت اور الہی انعامات کا ذاتی تجربہ حاصل کرتا ہے جس سے اس کا اللہ تعالیٰ کی ہستی پر یقین اور بھی قوی ہو جاتا ہے اس کا اپنا ارادہ ختم ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے جلال کا تسلط اس پر قائم ہو جاتا ہے اس کی معرفت الہی اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے دل میں داخل ہو جاتا ہے اور اس کے دل کو تنہا چھوڑنے سے انکار کر دیتا ہے اس کی پاک روح اس کے اندر رہائش پذیر ہو جاتی ہے اور اسے حرکت اور طاقت بخشتی ہے یہ روح اس کے ہر کام میں اس کی رہنمائی کرتی ہے۔اللہ تعالیٰ خود اس کا نگران اور محافظ بن جاتا ہے اور وہ جبروت و عظمت والے خدا کے جلال کے تصرف میں آجاتا ہے اور ایمان و عرفان کا پانی اس کے دل سے اس طرح بہہ نکلتا ہے جس طرح میٹھے چشمے سے پانی۔وہ اس تجربے میں لذت پاتا ہے اور یہ لذت اس پر حاوی ہو جاتی ہے اور اس کی آنکھوں اور چہرے سے نظر آنے لگ جاتی ہے اللہ تعالیٰ کا نور اس پر بارش کی طرح برستا ہے اور