خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 103
خطبات ناصر جلد سوم ۱۰۳ خطبه جمعه ۱/۲۴ پریل ۱۹۷۰ء اور احمدیت کی فتح کا دن بہت قریب ہے اس لئے اپنے فرائض کی ادائیگی کے لئے تیار ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑے گا۔اس کے فرشتے آسمان سے آپ کی مدد کے لئے اُتریں گے اور آپ ہی صرف آپ ہی ہر مذہب ، ہر قسم کے فلسفے اور ہر قسم کے نظریے پر غالب آئیں گے۔مستقبل آپ کا ہے مسکراتے ہوئے چہروں کے ساتھ آگے بڑھیں اور اس سے ملیں۔اس کے بعد حضور نے اللہ تعالیٰ سے زندہ تعلق پر سید نا حضرت مسیح موعود کے ارشادات کی روشنی میں تفصیل سے واضح فرمایا کہ یقین یقین کو کاٹتا ہے۔شکار جنگل کی طرف بلاتا ہے تو سانپ اور شیروں کا خوف اس سے دور بھگاتا ہے کہ جس طرح ایک شکاری کا جنگل میں جانا اور وہاں شکار کی بجائے سانپوں اور بھیڑیوں اور چیتوں کو پا کر واپس لوٹ آنا ایک صحتمند عمل ہے اسی طرح اگر انسان کو اللہ تعالیٰ کے غضب اور غصے کا ڈر ہو تو وہ کبھی گناہ نہ کرے وہ پوری کوشش کرے گا کہ اس کے غصے اور غضب کے جہنم سے اپنے آپ کو بچائے۔پھر فرمایا اس لئے اے میرے روحانی بچو! جس چیز کی ضرورت ہے وہ اللہ تعالیٰ کے جلال پر یقین ہے۔ایسا یقین جس سے جسم کانپ جائے اور اللہ تعالیٰ کے قرب اور رضا ہی میں نجات نظر آئے۔پس قرب کی راہوں کی تلاش ضروری ہے اس لئے میں مہدی اور مسیح علیہ السلام کے جانشین کے طور پر آپ کو جو یہاں موجود ہیں یا دنیا میں کہیں اور موجود ہیں ان سب کے نوٹس میں یہ حقیقت لانا چاہتا ہوں کہ جو کتاب ان ساری ضرورتوں کو پورا کرتی ہے وہ صرف قرآن مجید ہے۔روزنامه الفضل ربوه ۲۲ رمئی ۱۹۷۰ء صفحه ۵،۴)