خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 96 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 96

خطبات ناصر جلد سوم ۹۶ خطبہ جمعہ ۱۷ را پریل ۱۹۷۰ء حقوق اور مراعات حاصل ہوتی ہیں جتنی کہ اپنی اپنی جگہ دوسرے حصوں کو، اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ جماعت بھی متعدد حصوں میں تقسیم ہوسکتی ہے لیکن ان میں سے جماعت کا صرف ایک حصہ اللہ تعالیٰ کی برکات کا مورد رہ سکتا ہے باقی سب ان فیوض سے محروم کر دیئے جاتے ہیں انسانوں کی قائم کردہ تنظیم زیادہ سے زیادہ اپنے اراکین کی دنیوی اور مادی ضروریات کو پورا کرسکتی ہے یہ تنظیم سکول قائم کر سکتی ہے ہسپتال جاری کر سکتی ہے لائبریریاں اور دیگر ایسے ہی ادارے قائم کرسکتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ جماعت اپنے اراکین کے لئے اس سے بہت کچھ زیادہ کرنے کی اہل ہوتی ہے اور یقیناً ان کے لئے وہ مادی ضروریات سے بہت کچھ بڑھ کر دکھاتی ہے درحقیقت الہی جماعت کے قیام کی غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے اراکین کو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے میں مدد دے اور یہ ایسی بات ہے جسے انسانوں کی بنائی ہوئی تنظیم کسی صورت میں بھی سر انجام نہیں دے سکتی کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والی برکات یا ان کا وعدہ اس تنظیم کے شامل حال نہیں ہوتا برخلاف اس کے الہی جماعت تو شروع ہی اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت اور کامیابیوں کے ہزاروں وعدوں کے ساتھ ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس فرق کو واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔دو بعض کہتے ہیں کہ انجمنیں قائم کرنا اور مدارس کھولنا ہی تائید دین کے لئے کافی ہے مگر وہ نہیں سمجھتے کہ دین کس چیز کا نام ہے اور اس ہماری انتہائی ہستی کی انتہائی اغراض کیا ہیں اور کیونکر اور کن راہوں سے وہ اغراض حاصل ہو سکتے ہیں۔سو انہیں جاننا چاہیے کہ انتہائی غرض اس زندگی کی خدا تعالیٰ سے سچا اور یقینی پیوند حاصل کرنا ہے جو تعلقات نفسانیہ سے چھوڑا کر نجات کے سرچشمہ تک پہنچاتا ہے۔سو اس یقین کامل کی راہیں بناوٹوں اور تدبیروں سے ہرگز نہیں کھل سکتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو آسمان سے اترا وہی آسمان کی طرف لے جاتا ہے۔سواے وےلوگو! جو ظلمت کے گڑھے میں دبے ہوئے اور شکوک وشبہات کے پنجہ میں اسیر اور نفسانی جذبات کے غلام ہو۔۔۔۔۔اپنی سچی رفاہیت اور اپنی حقیقی بہبودی اور اپنی آخری کامیابی اپنی تدبیروں میں نہ سمجھو جو حال کی انجمنوں اور مدارس کے ذریعہ سے کی جاتی ہے اور یہ اشغال بنیادی طور پر