خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 62 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 62

خطبات ناصر جلد سوم ۶۲ خطبہ جمعہ ۲۰ / مارچ ۱۹۷۰ء سے ہے آپ ان کا مظہر بنے۔ہمارے نزدیک یہی ایک وجود ہے جسے حقیقی اور کامل عرفان شیون باری عطا ہوا اور جو اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر اتم ٹھہرے اور پھر اس مقام محمدیت سے فیوض کی جو مختلف نہریں نکلتی ہیں۔اس نور مجسم سے نور کے جو مختلف ستون روحانی آسمانوں کی بلندیوں کی طرف اٹھتے ہیں ان کے ہی مختلف جلوے ہمیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین کی ذات میں نظر آتے ہیں اور چونکہ آپ صفات باری کے مظہر اتم تھے اس لئے ایک طرف اللہ تعالیٰ سے آپ کا پختہ تعلق تھا اور دوسری طرف آپ کا جو تعلق اس کے بندوں سے، بنی نوع انسان سے تھا وہ بھی اتنا پختہ اور اتنا وسیع تھا اور اتنا عمیق تھا کہ ہمیں کوئی انسان اس میں آپ کا مقابلہ کرتا نظر نہیں آتا۔بنی نوع انسان کی ہمدردی اور غم خواری ایک ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی طرح ہمیں آپ کی ذات میں نظر آتی ہے آپ نے صرف ان پر ہی نگاہ نہیں رکھی جو آپ کے گرد آپ کے زمانہ میں رہتے تھے، جو پروانوں کی طرح آپ کے نور کے ساتھ لیٹے رہتے اور آپ کی محبت میں آپ کے وجود کی چمک دیکھ کر آپ کے اس روحانی وجود کے گرد طواف کرتے رہتے تھے صرف ان پر ہی نگاہ نہیں رکھی اور ان کی ضرورتوں ہی کو نہیں سمجھا اور صرف ان کو ہی پورا کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کا مظہر اتم اس وقت سے بنادیا تھا کہ ابھی آدم اس دنیا میں وجود پذیر نہیں ہوا تھا اور اس وقت سے لے کر قیامت تک جتنے بھی انسان پیدا ہوئے ان سب پر آپ کی نگاہ کرم تھی اور ان کی ضرورت کے مطابق آپ کا احسان ان لوگوں پر تھا۔حضرت آدم کے زمانہ میں اس وقت کی انسانی صلاحیت کے مطابق قرآنِ عظیم کا ایک حصہ انہیں عطا ہوا اور جب انسان نے روحانی ترقی کے مزید مدارج طے کر لئے تو حضرت نوح کے زمانہ میں ان کے زمانے کے مطابق اور حضرت ابراہیمؑ کے زمانے میں ان کی ضرورت کے مطابق اور حضرت موسیٰ کے زمانے میں ان کی قوم کی اس زمانے کی صلاحیت کے مطابق انہیں قرآن کریم کے حصے ملے۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی آنکھ نے ان کے لئے جس چیز کی ضرورت محسوس کی اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے حکم سے وہی چیز ان کو عطا کر دی۔آپ کی یہ مظہریت اتنی اتم اور اکمل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں آپ کے وجود کوظلی طور پر اپنا وجو د ہی قرار دیا اور فرمایا۔قُلْ جَاءَ الْحَقُّ