خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 44
خطبات ناصر جلد سوم ۴۴ خطبہ جمعہ ۶ رفروری ۱۹۷۰ء پس انشاء اللہ میں ایمان باللہ سے شروع کروں گا کیونکہ وہی مرکزی نقطہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑی وضاحت سے بیان کیا ہے۔اللہ کے لفظ کے اس مفہوم کو سمجھنے کی ( جس مفہوم اور معنے میں قرآن کریم نے اللہ کے لفظ کو استعمال کیا ہے ) ایک کنجی اور مفتاح بھی ہمیں دے دی ہے اور یہ ایسی کنجی ہے جس سے اور بہت سے مضامین بھی گھل جاتے ہیں۔میرا ذاتی تجربہ یہی ہے کہ جب قرآن کریم کوئی اصطلاح یا کوئی لفظ استعمال کرے تو خود قرآن کریم میں دیکھو کہ وہ کن معنوں میں استعمال ہوا ہے پس اللہ کو سمجھنے کے لئے قرآن کریم کو شروع سے آخر تک دیکھنا پڑتا ہے کہ اللہ جو اسم ذات باری ہے قرآن کریم کس مفہوم میں اس لفظ کو، اس اصطلاح کو استعمال کرتا ہے یعنی کون سی صفات ہیں جن سے قرآن کریم اللہ کو متصف کرتا ہے ( غرض مختصر ہی مجھے کہنا پڑے گا) یہ مضمون بڑا لمبا ہے لیکن میں چاہتا ہوں کہ ایمان کے سارے حصوں کو لے کر یہ بتاؤں کہ قرآن کریم نے ان کو کن معنوں میں استعمال کیا ہے اور ہم سے قرآن کریم کیا مطالبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ کیا چاہتا ہے جب وہ یہ کہے کہ ایمان باللہ ہونا چاہیے تو کیا مراد ہے؟ جب وہ یہ کہے کہ ایمان بِمُحَمَّد صلی اللہ علیہ وسلم ہونا چاہیے تو کیا مراد ہے؟ جب اللہ یہ کہے کہ ایمان بالقرآن ہونا چاہیے تو کیا مراد ہے؟ جب اللہ یہ فرماتا ہے کہ ایمان بالاخرہ ہونا چاہیے تو کیا مراد ہے۔خود قرآن کریم ہمیں بتائے گا کہ کیا مراد ہے جب وہ ایمان بیومِ آخر ہو تو اس سے کیا مراد ہے؟ ایمان بایتِ اللهِ سے کیا مراد ہے؟ جہاں جہاں بھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے اس سے مراد کیا ہے؟ اور پھر اس کے بعد میں بتاؤں گا کہ ایمان آگے دوشاخوں میں کس طرح تقسیم ہوتا ہے۔ایک ہجرت جس کے انعام کا ذکر یہاں قرآن کریم نے رضوان سے کیا ہے اور دوسری شاخ مجاہدہ ہے جس کا انعام ”جنت نعیم“ میں بیان کیا گیا ہے یہ دونوں دراصل خدا تعالیٰ کی رحمت کے جلوے ہیں اور دونوں کا تعلق جزا کے لحاظ سے رحمت کے ساتھ اور مطالباتِ الہیہ کے پورا کرنے کے لحاظ سے ایمان کے ساتھ ہے۔پس ایمان ہو اس کے تقاضے پورے کئے جائیں جب اس کے تقاضے پورے کرنے کا سوال پیدا ہو تو وہ اصولی طور پر دو قسم کے تقاضے ہیں ایک کو ہم ہجرت کہتے ہیں ایک کو ہم مجاہدہ کہتے ہیں اور جب ایمان ہوگا اپنے صحیح مفہوم کے ساتھ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا نزول ہوگا۔اللہ تعالیٰ