خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 45 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 45

خطبات ناصر جلد سوم ۴۵ خطبہ جمعہ ۶ رفروری ۱۹۷۰ء کی رحمت کا نزول دو شکلوں میں ہوگا ایک رضوان کی شکل میں اور ایک جنت نعیم کی شکل میں۔پس یہ مفہوم ان مختصر سی آیات میں بیان ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو اگلے خطبہ سے اس کے اس مضمون کو ان شاء الله تفصیل سے بیان کروں گا۔وَمَا تَوفِيُقِي إِلَّا بِاللهِ - دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارا ملک اس وقت ایک نازک دور میں سے گزر رہا ہے مارشل لاء لگا ہوا ہے اور مارشل لاء نے عوام کو یہ کہا ہے کہ اپنی مرضی سے انتخاب کرو جس میں کوئی دباؤ نہ ہو یا کوئی لالچ نہ ہو اور منتخب نمائندے پھر اس ملک کا دستور بنا ئیں پھر اس کے مطابق یہاں کی حکومت قائم ہو۔غرض بہت ہی اچھا کام ہے جو اس مارشل لاء نے کیا لیکن بڑی ذمہ داری عائد کر دی ہے پاکستانی شہری پر اور پاکستانی شہریوں کی اکثریت چونکہ باوجود عقل اور ذہانت رکھنے کے زیادہ پڑھی لکھی نہیں اور مظلوم ہونے کی وجہ سے بیچاروں کے پاس بہت سے ایسے وسائل بھی نہیں ہیں کہ وہ صحیح حالات کا پتہ لے سکیں اس لئے جو مختلف نعرے لگائے جاتے ہیں اُن سے کوئی دماغ کسی نعرہ سے مرعوب ہو جاتا ہے کوئی دوسرا دماغ کسی دوسرے نعرہ سے مرعوب ہو جاتا ہے اور حکومت جو آگے قائم ہونے والی ہے اور پاکستان ہمارا ملک جو ہے اور پاکستانی ہمارے شہری جو ہیں ان کے متعلق کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ کس جہت کی طرف ان کی سیاسی حرکت ہو گی۔چونکہ ہر حرکت اور ہر سکون اللہ تعالیٰ کے حکم اور منشاء سے ہی ہوتا ہے اس لئے ہم سب احمد یوں کو اپنے رب کے حضور عاجزانہ جھک کر اس سے یہ دعا کرنی چاہیے کہ اے ہمارے رب! ہمارے ملک اور ہماری قوم پر رحم کر اور ان کی ہدایت کے سامان پیدا کر اور ان کو وہ راہ دکھا جو ایک شاندار اور پرامن اور تیرا اطاعت گزار ملک بننے کی راہ ہو۔تیری رضا کو بھی وہ حاصل کریں اور اس دنیا میں جو نعمتیں اپنے فضل سے تو نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کی ہیں ان نعمتوں سے سارے کے سارے مل جل کر زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھانے والے ہوں اور تیری حمد کرنے والے ہوں پس یہ دعا ئیں آجکل بڑی کثرت سے کریں۔اللہ تعالیٰ اپنا فضل فرمائے۔(روز نامه الفضل ربوه یکم اکتوبر ۱۹۷۰ ء صفحه ۲ تا ۶ )