خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 526 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 526

خطبات ناصر جلد سوم ۵۲۶ خطبہ جمعہ ۱۹ نومبر ۱۹۷۱ء اب بھی بہت سی بہنیں قربانی دے رہی ہیں۔یعنی اپنے بچے احمدیت کے نام پر خدا کے لئے وقف کرنے کی شکل میں وہ پیدا کر رہی ہیں یعنی وقف کے لئے یہی ضروری نہیں ہے کہ تحریک جدید کا واقف ہو۔نیت وقف کی ہونی چاہیے ان کی تربیت کا بھی خاص خیال رکھیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی بھی توفیق بخشے۔بہر حال انصار اور خدام کی تعداد میں بڑا فرق پڑ گیا اور پھر اس وجہ سے چندوں میں بھی فرق پڑ گیا پھر خدام الاحمدیہ ، جن کی عمر سولہ سے چالیس تک ہے ان کی مجموعی آمدنی جتنی تیس سال پہلے تھی اس وقت یقیناً اس سے سو گنا زیادہ ہے۔غرض اللہ تعالیٰ بڑے فضل کر رہا ہے لیکن میں کہتا ہوں کہ انصار اللہ والے کیوں مایوس ہو جائیں کہ اُن پر اللہ تعالیٰ فضل نہیں کرے گا پس وہ دھیلے سے پیسہ شرح چندہ مقرر کریں۔اللہ تعالیٰ ان کے مال میں بھی برکت دے گا بہر حال یہ ذیلی چیزیں ہیں جن کی طرف میں نے توجہ دلا دی ہے۔میں نے بتایا ہے کہ اس چھوٹی سی آیت میں بڑا ہی لطیف مضمون بیان کیا گیا ہے۔جو شخص بھی اپنے رب سے سچا اور پختہ تعلق پیدا کر لیتا ہے، اس کو نہ ظلم اور نقصان کا کوئی خطرہ باقی رہتا ہے اور نہ اس کو یہ خطرہ رہتا ہے کہ شریعت کے نقص کی وجہ سے وہ گناہگار ہو جائے گا یا بدلے ہوئے حالات میں شریعت اگر اس کے مسائل حل نہ کرے تو اس لحاظ سے بھی یہ نہیں کہ وہ گناہگار ہو جائے گا پھر نہ اس کو یہ خطرہ رہتا ہے کہ عقل پر ہی بھروسہ کرنا ہے۔عقل کبھی صحیح راستہ پر چلتی اور کبھی بھٹک جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں تمہاری عقلوں کو شریعت محمدیہ پر عمل پیرا ہونے کے نتیجہ میں روشنی عطا کروں گا اور ان عقلوں میں ایک جلا پیدا کروں گا پھر تم دنیا کے معلم بن جاؤ گے بشرطیکہ اللہ تعالیٰ سے پختہ تعلق پیدا کر لو اور پھر قرآن کریم جو علموں کا خزانہ اور معرفت کا ایک سمندر ہے وہ تمہیں دیا گیا ہے اس لئے کم علمی اور سفاہت اور حمق کا تمہارے لئے کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن اس سمندر میں غوطہ لگانا ضروری ہے پھر یہ بھی ہے کہ بدلے ہوئے زمانوں میں، بدلے ہوئے حالات میں ( وقتی طور پر اجتماعی یا انفرادی حالات بدلتے ہیں یا بیماریوں اور بڑھاپے کی وجہ سے مستقل طور پر حالات بدل جاتے ہیں مثلاً چندے کے لحاظ سے بعض تا جر ا یسے بھی ہیں جو