خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 497 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 497

خطبات ناصر جلد سوم ۴۹۷ خطبہ جمعہ ۲۹/اکتوبر ۱۹۷۱ء که انسان، انسان کی نگاہ میں اولوالعزم بن جائے ، تب بھی انسان خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ثواب کا مستحق نہیں بنتا، جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت اس کے شامل حال نہ ہو اور اس کے لئے انسان کو اللہ تعالیٰ پر توکل کرنا پڑتا ہے۔انسان کو جب اپنی کمزوری اور اپنے نفس کا احساس ہو اور انسان کو جب یہ معرفت اور یقین حاصل ہو کہ اس کا خدا کے حضور کسی چیز کا محض پیش کر دینا کافی نہیں ہے جب تک کہ وہ مقبول نہ ہو جائے یہ احساس جو ہے اس کے نتیجہ میں یا تو شیطان آئے گا اور کہے گا کہ جب پتہ ہی نہیں کہ ثواب ملنا ہے یا نہیں، تو نہ دو۔یا فرشتے آئیں گے اور کہیں گے جس نے تمہیں پیدا کیا، جس نے ان ساری چیزوں کو پیدا کیا اس نے تمہیں مال دیا اور اس نے تمہارے لئے ثواب کے یہ سارے مواقع بہم پہنچائے ہیں۔اس پر توکل رکھو۔دراصل خدا کے سہارے کے بغیر خدا کا سہارا بھی نہیں ملتا اور خدا کے سہارے کے بغیر خدا پر توکل کئے بغیر انسان نہیں کہہ سکتا کہ جو اس نے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیا ہے وہ مقبول ہو گیا اور اس کا اُسے ثواب مل گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے۔اللہ تعالیٰ کی چیز تھی تم اس کی راہ میں دے رہے ہو۔تمہارا خیال ہے کہ اخلاص میں کوئی کمی نہیں۔دنیا سمجھتی ہے کہ تمہارے اندر بڑا جوش پا یا جاتا ہے اور دنیا کی نگاہ تمہیں اولوالعزم اور صاحب ہمت بھی بجھتی ہے لیکن دنیا کی نگاہ اور اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں فرق ہے۔جب تک دنیا کی نگاہ میں وہی کچھ ہو جو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ہے اس وقت انسان کی کوشش بے نتیجہ ہوتی ہے۔پس یہ دعا بھی کرو اور اللہ پر توکل بھی رکھو کہ وہ تمہاری اس دعا کو قبول کرے گا اور جو اس نے تم سے مطالبہ کیا اور اس کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے جو کچھ تم نے اس کے حضور پیش کیا اگر اس کے اندر کوئی خامی یا کمزوری یا کوئی شیطانی کیڑا بھی ہو تب بھی اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے ان کیڑوں کو مار دے گا اور ان کمزوریوں کو دور کر دے گا اور تمہاری پیشکش کو قبول کر لے گا اس رنگ میں کہ تمہیں زیادہ سے زیادہ ثواب عطا فرمائے گا۔پھر محض چندے لکھوا دینا بھی کافی نہیں۔جماعت کا ایک حصہ ایسا ہے جو کمزوری دکھاتا ہے۔بعض دوستوں کے تو حالات بدل جاتے ہیں مثلاً یہ چالیس آدمی جن کا میں نے ابھی ذکر کیا