خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 494 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 494

خطبات ناصر جلد سوم ۴۹۴ خطبہ جمعہ ۲۹/اکتوبر ۱۹۷۱ء رہے ہیں ) انہوں نے ایک ہزار چندہ نہیں دیا۔ان میں سے چار نے تو اس لئے نہیں دیا کہ ان کی وفات ہو گئی تھی اور باقی چھتیں نے مالی حالات کی تبدیلی کی وجہ سے اپنے معیار کو قائم نہیں رکھا اور نہ وہ قائم رکھ سکتے تھے۔ہم اُن کے اوپر الزام نہیں دھر تے لیکن جماعت پر یہ الزام آتا ہے کہ اگر ایک سال چالیس دوستوں کے مالی حالات ایسے نہ رہیں کہ وہ ایک ہزار چندہ تحریک کو دے سکیں ، تو ان کی جگہ اور کھڑے ہونے چاہئیں اور ہر سال چندے میں زیادتی ہونی چاہیے کیونکہ جماعت کے مال میں تو بہر حال ترقی ہو رہی ہے۔اس لئے جماعت کو چالیس سے زیادہ ایسے دوست کھڑے کرنے چاہیے تھے جو ایک ہزار یا اس سے زائد رقم تحریک جدید میں چندہ دیتے اور یہ کمی نہ آتی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سال جو گذرا ہے اس میں جماعت نے ایک اور مالی بوجھ (اور وہ بھی معمولی نہیں ہے ) اُٹھایا اور وہ نصرت جہاں ریز روفنڈ کی تحریک ہے جو نصرت جہاں آگے بڑھوں کے منصوبہ کو مالی سہارا دینے والی ہے۔اس میں پاکستان کی جماعت نے گذشتہ سال قریباً بارہ تیرہ لاکھ دیا اس لئے عذر معقول بھی ہے لیکن کسی نئے کام میں ہاتھ ڈالنے کے یہ معنے نہیں ہوا کرتے کہ جو کام ہو رہا ہے اس میں رکاوٹ پیدا ہو جائے۔تحریک جدید کا کام بنیادی اہمیت کا حامل ہے اور ہماری ضرورتیں دن بدن بڑھ رہی ہیں۔ان بڑھتی ہوئی ضرورتوں کو پورا کرنے کی کوشش کرنا اور کرتے رہنا، یہ جماعت کا فرض ہے اور جماعت کو اس طرف توجہ دینی چاہیے اور اللہ تعالیٰ جس حد تک توفیق دے اپنے مالوں کو ( جو دراصل اپنے نہیں ) اس کے حضور پیش کر دینا چاہیے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ “ (البقرة : ۴) کے ایک معنے یہ بھی کئے ہیں کہ یہ مت خیال کرو کہ مال تمہاری کوشش سے آتا ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے غرض مال جب ہمارا ہے ہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا ہے تو پھر یہ تو اُس کا احسان ہوا کہ اس نے ہمیں فرمایا کہ یہ مال میں تمہیں دیتا ہوں۔تم اس میں سے میری راہ میں خرچ کرو اور میں تمہیں ثواب دوں گا مثلاً جس طرح ایک چھوٹا بچہ جو ابھی کم نہیں رہا ، پانچویں یا چھٹی یا ساتویں