خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 489
خطبات ناصر جلد سوم ۴۸۹ خطبہ جمعہ ۲۲/اکتوبر ۱۹۷۱ء دوڑ پڑا اور اس نے کوئی ۴۰،۳۰ قدم لئے ہوں گے کہ اس کے دل کی حرکت بند ہوگئی اور وہ وہیں مر گیا اگر اس وقت میری موٹر کا ہارن نہ بجتا اور وہ نہ دوڑتا تو اگلے دن صبح کئی لوگوں کے دستر خوان پر اس کا گوشت کھایا جارہا ہوتا۔بہر حال دل حرکت کر رہا ہوتا ہے لیکن وہ صحت مند نہیں ہوتا۔ہمارے اطباء کے پاس بعض دفعہ ایسے بیمار بھی آتے ہیں جن کو وہم ہوتا ہے کہ بخارات سر کو چڑھتے ہیں حالانکہ دماغ کی طرف بخارات جانے کا تو جسم کے اندر کوئی رستہ ہی نہیں بنا ہوا لیکن ایک معنی سے یہ درست بھی ہے اور یہ محاورہ اس معنے میں صحیح بھی ہے کہ جس وقت معدہ خراب ہوا اور دل کمزور ہو تو دل کے اوپر اثر پڑتا ہے۔اس کو پوری طرح کھلنے کی جگہ نہیں ملتی۔پھر اعصاب پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے اور پریشانی بھی ہوتی ہے اور آدمی کو احساس یہ ہوتا ہے کہ میرے دماغ پر اس کا اثر ہے۔پس ماہِ رمضان اور اس کی عبادتوں کا انسان کو ایک فائدہ تو یہ ہے کہ اس کے روحانی قوی تیز ہوتے ہیں اور اپنے رب کے متعلق ایک بجستجو پیدا ہوتی ہے اور یہ انسان کے لئے بڑی ضروری ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ اپنے رب کی صفات کی معرفت حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہے یہاں تک کہ اُسے معلوم ہو جائے کہ اس کا رب اس کے کتنا قریب ہے۔وہ دُور نہیں کہ جس سے ہم بھاگ سکتے ہوں۔وہ دور نہیں کہ جس کے بغیر ہم زندگی گزار سکتے ہوں۔وہ دور نہیں کہ جس کی توجہ کے بغیر ہم اپنی ضرورتیں اور احتیاجیں پوری کر سکتے ہوں پس انسان کو سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ میرے بالکل قریب ہے۔ہر کام کے لئے حتی کہ ایک انگلی ہلانے کے لئے مجھے اس کی ضرورت ہے۔آپ میں سے اکثر مجھے ملتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔کسی کا سر ہل رہا ہے۔کسی کی آنکھ ہل رہی ہے۔کسی کا طرہ ہل رہا ہے۔اس حرکت کے لئے بھی رب کی ضرورت ہے ورنہ اگر اللہ تعالیٰ کی مرضی نہ ہو تو یہ ساری حرکت زندگی اور زندگی کے آثار ختم ہو جاتے ہیں۔فرمایا جس وقت تم مجھے پہچاننے لگو تو تمہیں چاہیے کہ دعا کی طرف مائل ہو جاؤ۔دراصل اللہ تعالیٰ کی صفات کی معرفت کے بغیر حقیقی دعا ممکن ہی نہیں۔وہ دعا تو ہوتی ہے جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے۔از دعا کن چاره آزار انکار دعا