خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 484 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 484

خطبات ناصر جلد سوم ۴۸۴ خطبہ جمعہ ۲۲/اکتوبر ۱۹۷۱ء اور خود کو اپنے تجویز کردہ مجاہدہ شدیدہ میں ڈالا حالانکہ حقیقی اسلام کی روح اسے تسلیم نہیں کرتی کیونکہ اگر ہم اسے تسلیم کریں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جو علم (نَعُوذُ بِاللہ ) ہمارے رب کو نہیں تھا وہ ان لوگوں کو حاصل تھا۔یہ بات بالبداہت غلط ہے اپنے نفس سے مجاہدات اور ریاضتوں کو تجویز کرنا درست نہیں ہے۔ہماری روحانی ترقی کے لئے اور ہمارے روحانی قومی کی صحت کے قیام اور ان کی نشوونما کے لئے جو بھی ضروری تھا وہ سب قرآن کریم میں موجود ہے اور اس سے زیادہ کسی چیز کی ہمیں ضرورت نہیں اس لئے ایسے سب خیالات جو ایسی ریاضتوں پر منتج ہوتے ہیں اور انسان کو ایسے مجاہدہ شدیدہ میں ڈالتے ہیں جن کا علم ہمیں قرآن کریم سے نہیں ملتا، باطل اور فاسد ہیں۔انہی لوگوں میں سے ملتا جلتا ( یا اسی گروہ کا حصہ کہنا چاہیے ) ایک گروہ وہ ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنے زور سے اپنے رب کو راضی کرنے پر قادر ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انہیں جو سہولتیں اور رعائتیں دی ہیں اُن سے فائدہ نہیں اُٹھانا چاہتے مثلاً ایسی بیماری جس میں روزہ رکھنا جائز نہیں ، وہ ایسی بیماری میں بھی روزہ رکھ لیتے ہیں یا ایسی عمر جس میں روزہ رکھنا جائز نہیں ، وہ ایسی عمر میں بھی اپنے بچوں کو روزہ رکھوا دیتے ہیں۔ہر عبادت کے لئے ایک بلوغت کا وقت ہے، جب تک انسان اس بلوغت کی عمر کو نہ پہنچے ، اس پر وہ عبادت فرض نہیں ہوتی لیکن یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تو کہا ہے کہ اس عمر میں روزے نہ رکھو اور نہ رکھواؤ لیکن ہم خدا تعالیٰ کی مرضی کے خلاف خود یا اپنے بچوں سے ایسی عبادتیں کروائیں گے کہ جن سے ہم نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ کو راضی اور خوش کریں گے یہ فاسد خیال ہے۔ایسا بیمار جس کے لئے روزہ رکھنا دوائی چھوڑنے یا بھوکا رہنے کے نتیجہ میں مضر ہو اور ہلاکت کا باعث ہوا سے روزہ نہیں رکھنا چاہیے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بار بار فرمایا ہے کہ دین العجائز اختیار کرو۔ہمارا رب انکسار اور تواضع سے خوش ہوتا ہے۔ہم اسے اپنے عمل سے خوش نہیں کر سکتے۔احادیث میں بڑی وضاحت سے یہ کہا گیا ہے کہ ہر نماز قبول نہیں ہوتی۔ہر روزہ قبول نہیں ہوتا جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال نہ ہو اس وقت تک یہ عبادتیں قبول نہیں ہوا کرتیں۔