خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 450
خطبات ناصر جلد سوم ۴۵۰ خطبہ جمعہ ۲۵/ دسمبر ۱۹۷۰ء سب سے زیادہ مخالف تھے۔میں ان کا نام نہیں لیتا۔انہوں نے ہماری مخالفت میں بڑا زور لگایا تھا۔انہوں نے مذہب کے نام پر اسلام کے نام پر فتنہ و فساد کی ایک آگ بھڑ کا دی تھی انہوں نے دکان بڑی سجائی تھی۔بہت سارے لوگ اس دُکان کو ، اس Show Window (شو ونڈو ) کو دیکھ کر سمجھتے تھے کہ اب پتہ نہیں کیا ہو جائے گا۔کئی احمدی دوست میرے پاس بڑے گھبرائے ہوئے آتے تھے مگر میں ان کو سمجھاتا تھا کہ کیا ہو جائے گا ؟ ہوگا وہی جو خدا چاہے گا اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھو۔پنجاب میں ان سارے لوگوں میں سے ہارے ہوئے اور ایک جیتے ہوئے کے ووٹ ملا کر چورانوے ہزار بنتے ہیں۔اس کے مقابلے میں ہمارے پانچ جیتنے والے دوستوں میں سے تین نے ایک لاکھ سے زائد ووٹ لئے ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کیونکہ جماعت احمد یہ کسی سیاسی پارٹی کے ساتھ تو تعلق اتحاد نہیں رکھتی کسی ایک پارٹی کے ساتھ ہمارا الحاق نہیں ہوسکتا تھا ہمارے خلاف جھوٹ بھی بولے گئے یہ سب کچھ کہا گیا لیکن واقعہ یہ ہے کہ بعض جگہ احمدیوں نے کہا کہ ہما را کنونشن لیگ کے ساتھ تعلق ہے۔ہم نے کہا ٹھیک ہے تم ان کو ووٹ دو۔خواہ یہ ہاریں یا جیتیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔بعض قیوم لیگ سے تعلق رکھنے والے آئے۔وہ ہمارے ساتھ تعلق رکھتے تھے ہماری جماعت کا خیال رکھتے تھے شریف آدمیوں سے یہ دنیا بسی ہوئی ہے وہاں مقامی جماعت احمدیہ نے کہا کہ ہم ان کو ووٹ دینا چاہتے ہیں ہم نے کہا ٹھیک ہے سیاست میں تو کوئی حکم نہیں چلے گا۔تمہارے ساتھ تعلق رکھتے تھے تم اگر ان کو ووٹ دینا چاہتے ہو تو ان کو ووٹ دے دو اسی طرح بہت سارے آزاد ممبر آئے ، ان کا ہمارے ساتھ تعلق تھا نہ پیپلز پارٹی نے ان کو ٹکٹ دیا تھا، اور نہ کسی اور پارٹی نے ان کو ٹکٹ دیا تھا۔چنانچہ وہ بھی آئے ہم نے کہا ٹھیک ہے مقامی جماعتیں اگر تمہارے ساتھ ہیں تو وہ تمہیں ووٹ دے دیں گے۔پس احمدیوں کے ووٹ مختلف سیاسی پارٹیوں میں تقسیم ہو گئے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جو پارٹی زیادہ صاحب فراست نکلی۔اس نے اپنے تدبر سے احمدیوں سے زیادہ خدمت لے لی۔یہ بھی اپنی جگہ صحیح ہے لیکن یہ کہنا درست نہیں ہے کہ ہمارا کسی ایک پارٹی کے ساتھ الحاق ہے۔