خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 34 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 34

خطبات ناصر جلد سوم ۳۴ خطبہ جمعہ ۲۳ / جنوری ۱۹۷۰ء پانے میں آگے ہی آگے بڑھتے چلے جاؤ سوائے اللہ کے اور کہیں سے نہیں ہو سکتی۔وہی ہے جو اس خواہش کی تکمیل کر سکتا ہے۔وہی ہے جس کے قرب کی راہیں جس کے وصال کی منازل غیر متناہی ہیں۔ہر منزل کے بعد ایک دوسری منزل ، ہر قرب کے بعد ایک ارفع ، زیادہ حسین ، زیادہ لذت اور سرور والا قرب کہ جس کی کیفیت ہماری زبان بیان نہیں کر سکتی لیکن بہر حال ہم نے اپنی زبان ہی میں بیان کرنے کی کوشش کرنی ہے تم اس کی توفیق سے یہ ساری چیزیں حاصل کر سکتے ہو۔پس وہ جو خود محدود ہے وہ تمہاری اس غیر محدود خواہش کی تکمیل کیسے کر سکتا ہے خود تمہاری عقل اس بات کو تسلیم نہیں کر سکتی کیونکہ یہ دنیا ایک لامحدود دنیا ہے دنیا کے اموال محدود، دنیا کی عزتیں محدود، دنیا کے اقتدار محدود، غرض محدود اشیاء ایک غیر محدود خواہش کی تکمیل کر ہی نہیں سکتیں بڑی غیر معقول بات ہوگی اگر ہم یہ کہیں کہ ایک محدود غیر محدود کی تکمیل کا اہل ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہارے اندر غیر محدود اور لا متناہی ترقیات کی خواہش پیدا کی گئی ہے اگر تم اپنی اس فطری خواہش کو پورا کرنا چاہتے ہو تو تمہیں اُس پاک ذات سے تعلق قائم کرنا پڑے گا جو ہر لحاظ اور ہر جہت سے غیر محدود ہے اُس کی حد بست نہیں کی جاسکتی اور وہ اللہ ہے۔إنَّ اللهَ عِندَةٌ أَجْرٌ عَظِيمٌ (التوبة: ۲۲)۔وہ اجر جس سے بڑھ کر کوئی اجر متصور نہیں ہو سکتا۔( یہ عظیم کے معنے ہیں ) جس کی عظمت اتنی بڑی ہے کہ کوئی اس کے مقابلہ پر نہیں آ سکتا۔وہ جزا وہ کامیابی ، کامیابی کی وہ لذتیں اور سرور کہ جن سے بڑھ کر اور کسی چیز کا امکان نہیں جو ہماری عقلوں میں بھی نہیں آسکتے۔وہ اجر عظیم سوائے اللہ تعالیٰ کے جس کی قدرتوں کی حد بست نہیں کی جاسکتی اور کہیں سے حاصل نہیں ہوسکتا۔پس اِنَّ اللهَ عِنْدَةٌ أَجْرٌ عَظِیم اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے کہ جس سے ہم غیر متناہی رفعتوں کو حاصل کر سکتے ہیں جو اگر ہم پر رحم کرے، اپنی رضا کی نگاہ ہم پر ڈالے، اپنی رضا کی جنتوں میں داخل ہونے کی ہمیں توفیق دے۔تو پھر ہمیں اجر عظیم مل سکتا ہے۔پس اگر انسان نے اجر عظیم پانے کی جو خواہش اس کے اندرود یعت کی گئی ہے اس خواہش کی تکمیل کرنی ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے رب یعنی اللہ سے ایک حقیقی