خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 434
خطبات ناصر جلد سوم ۴۳۴ خطبہ جمعہ ۱۱/ دسمبر ۱۹۷۰ء گی۔کبھی تمہارے وجود میں دنیا میرے حسن کا جلوہ دیکھے گی۔تمہارے وجود میں میراحسن چمکے گا اور اس طرح تم دنیا کے ایک حصے کو اپنی طرف کھینچ لو گے اور ان کے دلوں میں اپنا پیار پیدا کرلو گے۔ابھی وہ تم میں شامل نہیں ہوئے ہوں گے لیکن وہ تمہارے ممد و معاون بن جائیں گے اور کبھی تمہارے نفسوں میں احسان کے جلوے دکھاؤں گا۔اب کسی کو اللہ تعالیٰ کے حسن اور احسان کے جلوے دکھانا یہ انسان کی طاقت میں نہیں ہے۔جب تک اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی طاقت نہ دے وہ دوسرے سے حسن و احسان کا سلوک کر ہی نہیں سکتا۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کتنے ہی منصوبے کئے گئے۔میں نے ان کی چند مثالیں دی ہیں چھوٹے چھوٹے عنوان باندھ کر ایک آدھ مثال بھی دے دی ہے۔غرض آپ کے خلاف منکرین اسلام نے بے شمار منصوبے کئے لیکن آپ کو بتایا گیا تھا کہ منصوبے ہوں گے اور نتیجہ نکلنے تک کامیاب ہوں گے یعنی نتیجہ نکلنے تک کا جو حصہ ہے اس میں کامیاب ہوں گے۔جب اس حد تک منصوبہ کامیاب ہو جائے گا تو دنیا کی عقل یہ کہے گی کہ اس منصوبے کا یہ نتیجہ نکلنا چاہیے۔اس وقت خدا تعالیٰ کی شہادت یہ ہوگی کہ میرے بندوں کے خلاف ایک کامل منصوبے کا بھی وہ نتیجہ نہیں نکلے گا جو دنیا کے معیار کے مطابق نکلا کرتا ہے اور میں اپنے بندوں کی حفاظت کروں گا۔اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں سے اس سلوک کا یہ سلسلہ اسی طرح چل رہا ہے البتہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اسلام کے خلاف بے حد منصوبے ہوئے۔پہلے دنیائے عرب اور پھر کسری اور قیصر مسلمانوں کے مخالف ہو گئے۔ان کی ہزاروں لاکھوں کی فوج تھی ان کی فوج کے جرنیل کہتے تھے کہ شام سے پہلے اسلامی فوج کا صفایا کر کے رکھ دیں گے۔مسلمان ہماری طرف پھر نگاہ اٹھا کر دیکھنے کے قابل نہیں ہوں گے۔یہ ارادے تھے ان کے اور یہ یہ منصوبے تھے ان کے۔یہ تدبیر تھی ان کی اور یہ سازش تھی ان کی کہ مسلمانوں کا صفایا کر دیا جائے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ٹھیک ہے تم نے بڑے منصوبے بنارکھے ہیں۔سامان تمہارے پاس ہیں۔ذرا ان سامانوں کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کر کے تو دیکھو۔بہر حال ان تمام تر تکلیف دہ منصوبوں