خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 429
خطبات ناصر جلد سوم ۴۲۹ خطبہ جمعہ ۱۱/ دسمبر ۱۹۷۰ء قرآن کریم کی شکل میں ایک کامل اور مکمل دین عطا کیا گیا ہے تم ان کی آواز کو نہیں مٹا سکو گے چنانچہ مسلمانوں کے ہاتھوں کفار کو سزا دلوانے اور عذاب کا مزہ چکھانے کی بجائے ایک رات ان پر اللہ تعالیٰ کے غضب کا ایک ہی کوڑا پڑ اور وہ سارا مجمع منتشر ہو گیا۔غرض الہی سلسلوں کے خلاف ایک منصوبہ یہ بنایا جاتا ہے کہ دین کے نام پر سب بے دین اکٹھے ہو جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ دیکھ رہا ہوتا ہے مگر دنیا سمجھتی ہے کہ وہ خاموش ہے حالانکہ وہ خاموش نہیں ہوتا۔وہ کہتا ہے میں ان کو ڈھیل دیتا چلا جاتا ہوں تا کہ ان کا منصوبہ تیار ہو جائے۔یہ مشورے کر لیں۔ان کا اکٹھ ہو جائے اور پھر سامان اکٹھا کر لیں اور اپنی تدبیروں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے سردار مقرر کر دیں۔پھر کوچ کریں اور بالآخر مدینے کو گھیرے میں لے لیں اور سمجھیں کہ وہ کامیاب ہو گئے ہیں چنانچہ اپنی اس تدبیر یا منصوبے کی بناء پر کفار نے مدینے کو آکر گھیر لیا۔خدا نے فرمایا یہاں تک تو تمہیں اجازت ہے لیکن اس سے آگے میں تمہیں اجازت نہیں دوں گا کیونکہ میں غالب اور انتقام لینے والا ہوں تمہیں یہ کہا گیا تھا کہ خدا کے نام پر خدا کی طرف بلانے والے کی آواز سنو اور اس کے پیچھے چلو۔مگر تم نے ایسا نہیں کیا۔اب جس خدا کی طرف تمہیں بلا یا جار ہا تھا وہ غالب اور انتقام لینے والا ہے۔اب وہ اس صفت یا ان صفات کے جلوے دکھا کر تمہیں یہ بتائے گا کہ میرے اس منادی کی آواز حق وصداقت پر مبنی تھی۔یہ آواز اس کے اپنے دل کی آواز نہیں تھی۔یہ آواز کسی منصوبہ کے نتیجہ میں بلند نہیں ہوئی تھی۔یہ شیطان کی آواز نہیں تھی بلکہ یہ آواز خدائے واحد و یگانہ کی آواز تھی جو خدا کے محبوب کی زبان سے نکلی تھی اور یہی آواز غالب آئے گی لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ماننے والوں کو کہا کہ انہوں نے منصوبے بنائے ، بناتے رہیں اور ایک دوسری جگہ فرمایا کہ صبر کرو اور تقویٰ اختیار کروان کا گید ( وہاں بھی کہید کا لفظ استعمال فرمایا ہے ( یعنی ان کا مکر اور ان کی سازش کامیاب نہیں ہوگی چنانچہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے صبر اور تقویٰ کی جو ہدایت دی گئی تھی انہوں نے اس ذریعہ سے خدا کی محبت کو پایا اور خدا کے انتقام کو جوش دلا یا۔اگر مسلمان خود آگے سے جواب دیتے تو خدا تعالیٰ کہتا۔تم سمجھتے ہو کہ ان کا مقابلہ کرنے کی تمہارے اندر طاقت ہے تو پھر جاؤان