خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 413 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 413

خطبات ناصر جلد سوم ۴۱۳ خطبه جمعه ۴/دسمبر ۱۹۷۰ء عیسائی بھی اپنی جگہ سے چھلانگ لگا دیتے تھے۔وہ سمجھتے تھے کہ اگر اسلام کی یہی تعلیم ہے جو یہ پیش کر رہے تو ہمارے لئے بڑی مشکل پیدا ہو جائے گی۔کیونکہ ان کے پاس اس کا جواب کوئی نہیں اور اسلام کی یہی حسین تعلیم ہے۔آپ اس زمانہ کے حالات کو دیکھیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران کے وفد کو کہا کہ عیسائی رہتے ہوئے میری اس مسجد میں جو مساجد میں سب سے زیادہ عزت اور احترام والی مسجد تھی تم اپنے طریقہ کے مطابق اللہ کی عبادت کرو۔کیونکہ عیسائیوں کا وہ فرقہ خدائے واحد و یگانہ کی عبادت کرنے والا فرقہ تھا۔قرآن کریم نے یہ اعلان کر دیا کہ آنَّ الْمَسجِدَ لِلہ کوئی انسان مسجد کے اوپر ملکیت کا دعویٰ کر ہی نہیں سکتا۔مسجد اللہ کی ہے۔فلا تدعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا (الجن : ۱۹) ہر وہ شخص جو موحد ہونے کی صورت میں خدائے واحد و یگانہ کی عبادت کرنا چاہے اس کے لئے مساجد کے دروازے کھلے ہیں۔خدائے واحد و یگانہ کے آگے وہ سر رکھے۔اس کا حکم بھی دیا ، عمل بھی کر کے دکھا دیا۔پھر جہاں گئے ان کی گردنیں نہیں کاٹیں، ان کا دل جیتا۔گردنیں تو اس جگہ کاٹنی پڑیں جہاں یہ سوال پیدا ہوا کہ مسلمان کی گردن کٹنی چاہیے یا ایرانی کی یعنی کسری کی فوج کے سپاہی کی۔یا مسلمان کی گردن کٹنی چاہیے یا ایک رومی سپاہی کی تو خدا نے کہا کہ جس کی گردن میرے نزدیک قابل عزت اور قابل احترام ہے اس کی میں حفاظت کروں گا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کئے کہ اس بے سروسامان فوج نے خدا کے حکم کے ساتھ اور اس کے فرشتوں کی مدد کے ساتھ ایک ایک میدان میں ایک ایک دن میں ستر ستر ہزار گردنیں کاٹ دیں۔لیکن ایک دن میں ہی سنتر منتر ہزار گردن کاٹنے کے باوجود اس علاقے کے دل اس طرح جیتے کہ انہوں نے پھر کہا کہ ہم تمہارا ساتھ نہیں چھوڑ سکتے۔اگر یہ محبت نہ ہوتی، اگر یہ پیار کا اعلان اور پیار کا سلوک نہ ہوتا اگر مساوات کا نعرہ نہ لگایا جاتا تو جب ستر ہزار گردن کئی تھی تو اس علاقہ میں ستر ہزار دشمنیاں پیدا ہو جانی چاہیے تھیں مگر دشمنی پیدا نہیں ہوئی بلکہ پیار پیدا ہوا۔اس لئے کہ جو مجبوراً لو ہے کی تلوار اسلام کو چلانی پڑی اس سے زیادہ تیز دھار والی پیار اور محبت کی تلوار تھی۔ان کو مجبوراً گردن کاٹنی پڑی اور دوسرے لوگوں کے بشاشت کے ساتھ دل جیت لئے اور کوئی Bitterness ( برنس ) کوئی تلخی ، کوئی بدمزگی اور کوئی نفرت، کوئی دشمنی نہیں پیدا ہوئی بلکہ ایک محبت کی فضا پیدا ہوئی تو کتنی زبردست تھی وہ محبت ،