خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 381 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 381

خطبات ناصر جلد سوم ۳۸۱ خطبہ جمعہ ۱۶ /اکتوبر ۱۹۷۰ء اگر تم محبوب الہی نہ بنو گے تو جو چیز تمہیں حیات ابدی کی خوشیوں کی وارث بناتی ہے وہ حاصل کرنے کے لئے جہنم کے ہسپتال میں سے گزرنا پڑے گا۔اس لئے تمہاری بھلائی اسی میں ہے کہ اسی دنیا میں تم اللہ تعالیٰ کے محبوب بن جاؤ اور جو اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں ان کی علامات جو قرآن کریم نے بتائی ہیں وہ بڑی وسیع ہیں اور مختلف پہلوؤں سے اس پر روشنی ڈالی گئی ہے جب تک انسان اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا محبوب نہیں اسے یہ خیال دل سے نکال دینا چاہیے کہ وہ اُخروی زندگی میں خدا کا محبوب ہوگا اور یہ کہ اس کی نعماء کو پالے گا اور اس کی محبت اور رضا کو حاصل کرے گا یا اس کی رضا کی جنتوں کے مختلف جلوے اس پر ظاہر کئے جائیں گے یہ اس کا خیالِ خام ہے اس واسطے فرمایا اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا محبوب بنا تمہارے لئے ضروری ہے ورنہ جس مقصد اور غرض کے لئے تمہاری پیدائش ہوئی ہے وہ مقصد اور غرض پوری نہ ہوگی اور طریق یہ بتایا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرو خدا کے محبوب بن جاؤ گے۔پھر یہ بتایا کہ محبوب محبوب میں فرق ہوتا ہے ایک محبوب تو محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہیں جب ہم کہتے ہیں کہ آپ صفات باری کے مظہر اتم تھے تو ہمیں یہ بھی ماننا پڑتا ہے اور یقین کرنا پڑتا ہے کہ آپ سے زیادہ کسی اور انسان سے اللہ تعالیٰ نے پیار اور محبت نہیں کی۔کیونکہ دوسرے اللہ تعالیٰ کی صفات کے مظہر اتم نہیں انہوں نے وہ قرب حاصل نہیں کیا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاصل کیا انسان کے دل میں یہ خیال پیدا ہو سکتا تھا کہ مثال ہمارے سامنے رکھ دی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو مظہر اتم ہونے کی وجہ سے محبوبیت کا ملہ کے وارث ہیں اس سے زیادہ کوئی محبوب نہیں ہوسکتا اور ہم عاجز انسان بندے ہیں اس اتباع کے باوجود ہم تیری محبت کیسے حاصل کریں۔اللہ تعالیٰ نے فرما یا تسلی رکھو اگر تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ اپنے اوپر چڑھا کر اپنی استعداد کے مطابق میری صفات کے مظہر بننے کی کوشش کرو گے تو میں تمہای غلطیاں دور کر دوں گا۔پس اس آیت میں بڑی امید دلائی گئی ہے " يَغْفِرُ لکھ “ یہ نہ سمجھنا کہ وہ اتنا بلند اور ارفع وجود ہے 66 انسان وہاں کیسے پہنچے گا اور پھر مایوس ہوجانا اور کفر اور الحاد کےاندرملوث ہوجانا۔تو ایک طرف یہ کہا کہ یہ نمونہ ہے اس کے مطابق زندگی بسر کرو اسی وقت شیطان دل میں