خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 23 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 23

خطبات ناصر جلد سوم ۲۳ خطبہ جمعہ ۹/ جنوری ۱۹۷۰ء جلسہ کے بعد عبد السلام خان صاحب مجھے ملے ان سے رہا نہ گیا وہ کہنے لگے کہ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ گڈی بنالی ہے ( یہ الفاظ تو میرے ہیں لیکن ان کے دماغ میں یہی تھا کہ غیر مبائع اعتراض کرتے رہتے ہیں کہ انہوں نے گڑی بنالی ہے۔چنانچہ انہوں نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ گڑی بنالی ہے۔گڈی بنالی ہے ) لیکن میں نے یہاں آ کر جو دیکھا ہے اور خلافت کی ذمہ داریاں جو میں نے محسوس کی ہیں میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ بڑا ہی احمق ہوگا وہ شخص جو خلافت کی خواہش کرے اور یہ ایک حقیقت ہے کون اپنے آپ کو چوبیس گھنٹے کی ذمہ داریوں میں جکڑا ہوا دیکھنا چاہتا ہے لیکن معترض تو اعتراض کرتے ہی رہتے ہیں سمجھدار لوگ یا جب کسی کو اللہ تعالیٰ سمجھ دے دیتا ہے تو وہ حقیقت کو پالیتے ہیں۔پس یہ سمجھنا کہ خلیفہ وقت اللہ کے سوا کسی اور کے خوف سے دب جائے گا اس سے بڑھ کر کوئی حماقت نہیں۔جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ میرے جسم کے اعضاء بھی سوائے خدا کے اور کسی سے نہیں ڈرتے وہ اپنے متعلق یہ کیسے سمجھ سکتا ہے یا سوچ سکتا ہے کہ کبھی وہ کوئی کمزوری اس سلسلہ میں دکھا سکتا ہے جس نے غیر اللہ سے ایک دمڑی کے ہزارویں حصہ کی بھی کوئی چیز نہ لی ہو اور جس نے ہر چیز صرف اپنے مولیٰ سے حاصل کی ہو اور مولیٰ کی عنایتیں اس پر اتنی ہوں کہ انسانی دماغ ان کا احاطہ نہ کر سکے وہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف متوجہ ہی کس طرح ہو سکتا ہے جو ایسا خیال کرتا ہے اس سے زیادہ بیوقوف اور نادان اور جاہل اور کم علم کوئی ہو ہی نہیں سکتا یہ مختلف صفات جو میں نے بیان کی ہیں یہ مختلف گروہوں کی وجہ سے ہیں کہ بعض لوگ نفاق کی وجہ سے، بعض عدم علم کی وجہ سے اور بعض جہالت کی وجہ سے اس قسم کا خیال کرتے ہیں۔اب ہمارے اُو پر بڑی ذمہ داریاں پڑ رہی ہیں میرے ذہن میں پہلے بھی خیال آیا تھا لیکن اب جو مجھے نظر آ رہا ہے، دنیا میں جو کچھ ہونے والا ہے اس سے میں سمجھتا ہوں کہ ہم پر بڑی ذمہ داریاں پڑنے والی ہیں اس لئے ہمیں اپنی کمر کس لینی چاہیے یعنی ہر لحاظ سے ہمیں اپنے آپ کو تیار کر لینا چاہیے اور چوکس ہو جانا چاہیے پہلے ہم بعض چیزوں کو نظر انداز کر جاتے تھے اور دعائیں کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اس گند کو دُور کر دے لیکن اب شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم اس گند