خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 24 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 24

خطبات ناصر جلد سوم ۲۴ خطبہ جمعہ ۹/ جنوری ۱۹۷۰ء کے دور ہونے کے لئے دعا ئیں تو کرتے رہیں اور یہ تو ہماری ذمہ داری ہے اس سے تو کوئی شخص یا کوئی خاندان محروم نہیں ہو گا لیکن پہلے وہ ربوہ میں رہتے ہوئے ہماری دعائیں لیتا تھا اور اب وہ ربوہ سے باہر رہائش اختیار کر کے ہماری دعائیں لے گا وہ ربوہ میں نہیں رہ سکے گا۔ربوہ میں وہی رہے گا جو ہر لحاظ سے کوشش کر رہا ہو گا کہ میں اپنے خاندان کو اور اپنے ماحول کو ظاہر و باطن میں صاف ستھرا اور پاک اور مطہر رکھوں گا۔جس کا اس طرف خیال نہیں ہوگا ، جوا اپنی یہ ذمہ داری نہیں سمجھے گا۔( اللہ تعالیٰ اسے ہدایت دے اور اس کے ایمان کو پختہ کرے) وہ جہاں بھی رہے، رہے ، ربوہ میں وہ نہیں رہے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور ان کے نباہنے کی توفیق عطا کرے۔دو باتیں اور ہیں جن کے متعلق میں دعا کے لئے کہنا چاہتا ہوں۔جلسہ سالانہ سے کچھ روز پہلے ( کوئی القاء اور خواب کی صورت نہیں ویسے ) بڑے زور سے میرے دل میں یہ خیال پیدا کیا گیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ دو چیزیں ہمارے پاس اپنی ہوں۔ایک تو ہمارے پاس ایک بہت اچھا پریس ہو اور اللہ تعالیٰ جب کوئی خیال پیدا کرتا ہے تو اس کی ساری چیز روشن ہوکر سامنے آجاتی ہے اس لئے جب میرے دل میں خیال آیا تو اس کے ساتھ ہی میرے دماغ میں آیا کہ اس اچھے پریس کے لئے ہمیں پانچ دن لاکھ روپیہ کی ضرورت ہوگی ساتھ ہی میری طبیعت مطمئن ہو گئی کہ ٹھیک ہے گو پانچ یا دس لاکھ روپیہ ایک غریب جماعت کے لئے بڑا خرچ ہے لیکن اس طریق پر اس کا انتظام ہو جائے گا اس وقت پریس نہ ہونے کی وجہ سے ہماری توجہ ہی بہت سے کاموں کی طرف نہیں جاتی کیونکہ روکیں سامنے ہوتی ہیں اور جن کے سپر دیہ کام ہیں وہ ان کی طرف متوجہ ہی نہیں ہو سکتے دوسرے جن کاموں کی طرف توجہ ہوتی ہے ان میں سے بھی بہت سے کام چھوڑنے پڑتے ہیں یا ان میں تاخیر کرنی پڑتی ہے مثلاً اس وقت قرآن کریم کا فرانسیسی ترجمہ تیار ہے ہمارا قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ تفصیلی نوٹوں کے ساتھ ایک نئی جلد میں جیسا کہ جلسہ سالانہ پر اعلان ہوا تھا تیار ہو گیا ہے اور دوستوں کے ہاتھ میں آگیا ہے۔اس وقت فرانسیسی ترجمہ بھی تیار ہے لیکن دفتر سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے مجھے رپورٹ دی کہ بات یہ ہے کہ ہمارا خیال تھا ہم نے لاہور