خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 22 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 22

خطبات ناصر جلد سوم ۲۲ خطبہ جمعہ ۹/ جنوری ۱۹۷۰ء لیکن جو شخص شیطان کا مرید ہوتا ہے وہ احمق بھی بڑا ہوتا ہے اس لئے اپنی حماقت اور اپنی سفاہت کے نتیجہ میں بعض منافق طبع لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ جو مرضی ہے کرتے رہیں انہیں کوئی پوچھے گا نہیں۔فرض کر لو اگر کوئی آدمی نہ بھی پوچھ سکے تو خدا تو پوچھنے والا ہے اس کے غصہ اور اس کی گرفت اور تو اس کے قہر سے ایسا آدمی کس طرح بچ جائے گا لیکن یہ بھی شیطانی سفاہت ہے اور قرآن کریم نے اس کو حماقت اور سفاہت کہا ہے کہ خدا تعالیٰ کے بندے اس کو نہیں پوچھیں گے دنیا میں کسی کے گھر میں کوئی ایسا انسان نہیں پیدا ہوا کہ جو سلسلہ عالیہ احمدیہ سے بالا ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے گھر میں بھی کوئی بچہ ایسا نہیں پیدا ہوا جو سلسلہ عالیہ احمدیہ سے بالا ہو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پہلی نسل کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ بشارت دی تھی کہ وہ سلسلہ کے انتہائی خادم ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ان کی عملی خدمت اور ان کے خدمت کے جذبات کو دیکھ کر انہیں قوم کا سردار بنادے گا اور گو اللہ تعالیٰ انہیں قوم کا سردار بنائے گا لیکن وہ اس حقیقت کو نہیں بھولیں گے کہ سردار کہتے ہی اُسے ہیں جو قوم کا خادم ہو آپ دوست جانتے ہیں کہ ہمارے بزرگ بھائی مکرم مولوی محمد یعقوب خان صاحب جنہوں نے تھوڑا ہی عرصہ پہلے بیعت کی ہے جلسہ سالانہ پر آئے ہوئے تھے۔اُن کے ساتھ ان کا ایک بچہ کیپٹن عبد السلام خان صاحب) بھی تھا اس وقت تک اُنہوں نے بیعت نہیں کی تھی جلسہ سالانہ کے بعد اُنہوں نے بھی بیعت کر لی ہے اور اب اطلاع آئی ہے کہ مولوی صاحب موصوف کی بیوی نے بھی بیعت کر لی ہے۔اس وقت تک مکرم مولوی محمد یعقوب خان صاحب ، ان کی بیوی اور ان کے دو بچوں نے بیعت کر لی ہے ایک بچے نے ابھی تک بیعت نہیں کی عبدالسلام خان صاحب کا خط آیا ہے کہ میں نے ان سے بڑی لمبی باتیں کی ہیں وہ ساری باتیں مانتا ہے لیکن اس کے دُنیوی تعلقات کچھ اس قسم کے ہیں کہ وہ ابھی بیعت کرنے سے گھبراتا ہے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس کو بھی بیعت کرنے کی توفیق عطا کرے تا سارا خاندان اکٹھا ہو جائے۔محترم مولوی محمد یعقوب خان صاحب اور ان کے دو صاحبزادوں نے پہلی دفعہ ہمارا جلسہ سالانہ دیکھا تھا پہلی دفعہ انہوں نے اس فضا میں سانس لیا لوگوں کے چہروں پر ایمان کی شادابی دیکھی مجھ سے ملے احباب جماعت کے لئے جو میرے جذبات ہیں اُن کو محسوس کیا تو