خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 325 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 325

خطبات ناصر جلد سوم ۳۲۵ خطبہ جمعہ ۴ ستمبر ۱۹۷۰ء انشاء اللہ گونجتی چلی جائے گی یہاں تک کہ قیامت آ جائے جیسا کہ پہلے حوالہ گزر چکا ہے اور یہ ایک بڑی زبر دست دلیل ہے۔افریقہ والے اسے بڑی آسانی سے سمجھ لیتے تھے۔بہر حال یہ بشارت دی کہ دشمن اپنے منصوبوں میں ناکام ہوگا جماعت کو آسمانی تائیدات اور آسمانی نشانات حاصل رہیں گے۔آپ فرماتے ہیں:۔وو یا د رہے کہ ان نشانوں کے بعد بھی بس نہیں ہے بلکہ کئی نشان ایک دوسرے کے بعد ظاہر ہوتے رہیں گے یہاں تک کہ انسان کی آنکھ کھلے گی اور حیرت زدہ ہو کر کہے گا کہ یہ کیا ہوا چاہتا ہے۔ہر ایک دن سخت اور پہلے سے بدتر آئے گا۔خدا فرماتا ہے کہ میں حیرت ناک کام دکھلاؤں گا اور بس نہیں کروں گا جب تک کہ لوگ اپنے دلوں کی اصلاح نہ کر لیں۔پھر اس کے بعد یہ بشارت دی کہ تمام مسلمان حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فرزند کے جھنڈے تلے جمع کر دیے جائیں گے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ الہا نا فرمایا۔انّي مَعَكَ يَا ابْنَ رَسُولِ اللهِ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم روحانی فرزند میں تیرے ساتھ ہوں جس طرح میں تیرے باپ کے ساتھ تھا۔ورنہ ابن کہنے کی ضرورت نہیں اس وجہ سے میں یہ ترجمہ کر ہا ہوں۔پھر فرمایا ” سب مسلمانوں کو جو روئے زمین پر ہیں ، جمع کرو۔علی دِینِ وَاحِدٍ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰہ والسلام نے اس الہام پر ایک لطیف علمی نوٹ تحریر فرمایا ہے کہ احکام الہی دو قسموں کے ہوتے ہیں ایک کا تعلق شریعت سے ہوتا ہے مثلاً نماز پڑھو، خدائے واحد و یگانہ پر ایمان لاؤ، زکوۃ دو، روزے رکھو وغیرہ یہ سارے احکام شریعت سے تعلق رکھنے والے ہیں اور اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اس حکم کے باوجو دسب لوگ اس پر عمل بھی کریں گے بلکہ شریعت سے تعلق رکھنے والے بعض احکام ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جن میں یہ اشارہ ہوتا ہے کہ ایک گروہ ایسا بھی ہوگا جو ان پر عمل نہیں کرے گا اس واسطے انہیں پہلے ہی جھنجھوڑا ہے کہ تمہیں عمل کرنا چاہیے اور ایک اشارہ یہ آگیا کہ بہر حال وہ شریعت سے تعلق رکھنے والے ہیں اور انسان کو یہ آزادی ہے کہ چاہے تو ان پر عمل کرے اور چاہے تو نہ کرے لیکن ان کے علاوہ ایک گونی اوامر ہوتے ہیں جن کا کن کے ساتھ تعلق ہوتا ہے یعنی تقدیر کے ساتھ اور وہ ضرور ہو جاتے ہیں۔